امریکہ اور انڈیا: خوشحالی بذریعہ شراکت داری

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے 26جون کو انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی وہائٹ ہاؤس میں سرکاری دورے پر میزبانی کی۔

انڈیا اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے پر دونوں رہنماؤں نے باہمی تزویراتی شراکت کو مزید وسیع کرنے اور مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ ان مقاصد میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا، ہند ۔بحرالکاہل خطے میں استحکام کے فروغ، آزادانہ و منصفانہ تجارت کی ترقی اور توانائی سے متعلق روابط میں مضبوطی لانا خاص طور پر اہم ہیں۔ صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ امریکہ اور انڈیا مل کر موثر قیادت مہیا کریں گے جس کی بدولت عالمی مسائل کا حل اور آنے والے عشروں میں دونوں ممالک کے عوام کے لئے خوشحالی ممکن ہو سکے گی۔

ہند ۔ بحرالکاہل خطے میں جمہوری طاقتیں

ہند ۔ بحرالکاہل خطے میں ذمہ دار نگراں کے طور پر صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی میں اتفاق پایا گیا کہ امریکہ اور انڈیا میں قریبی شراکت خطے کے امن اور استحکام کےلئےبنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے نمایاں ترقی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی شراکت کو مضبوط بنانے کے لئے مزید اقدامات پر اتفاق کیا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں دئے گئے اصولوں کی مطابقت سے انہوں نے خطے کے لئےمشترکہ اصولوں کی خاطر عزم کا اظہار کیا جس کی رو سے خودمختاری اور عالمی قوانین محترم ہیں اور انہیں اختیار کرکے کوئی بھی ملک خوشحال ہو سکتا ہے۔

اس مقصد کے لئے دونوں رہنماؤں نے:

  • جہازرانی ، فضائی پروازوں اور خطے بھر میں آزادانہ تجارت کے حق کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
  • تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ علاقائی اور سمندری تنازعات کو پُر امن طریقے پر اور عالمی قوانین کے مطابق حل کریں۔
  • بنیادی ڈھانچے میں شفاف ترقی کے ذریعہ علاقائی معاشی ربط کو سہارا دینے نیز خودمختاری، علاقائی سالمیت، قانون اور ماحول کا خیال رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ طور سے قرض دینے کی حمایت کی۔
  • دوسرے ممالک پر زور دیا کہ وہ ان اصولوں سے وابستہ رہیں۔

صدر ٹرمپ نے افغانستان میں جمہوریت کی ترقی، استحکام، خوشحالی اور سلامتی کے لئے انڈیا کے کردار کا خیرمقدم کیا۔ افغانستان کے ساتھ دونوں ممالک کی تزویراتی شراکتوں کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے بہتر مستقبل کے لئے مدد دینے کی غرض سے قریبی مشاورت اور تعاون جاری رکھنے کا عزم کیا۔

انڈیا کی ‘تھنک ویسٹ پالیسی’ کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی نے باہمی تعاون، سفارتی مشاورت اور مشرق وسطیٰ میں شراکت داروں کے ساتھ ٹھوس تعاون و اشتراک بڑھانے کا عزم کیا۔

دونوں رہنماؤں نے شمالی کوریا کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزیوں کی کڑی مذمت کی اور زور دیا کہ اس کی جانب سے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے خطے کی سلامتی اور عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ رہنماؤں نے شمالی کوریا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی عالمی ذمہ داریوں اور وعدوں پر سختی سے عمل کرے۔ رہنماؤں نے شمالی کوریا کی جانب سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگرام سے نمٹنے اور اس پروگرام میں معاونت فراہم کرنے والے تمام فریقین کو جوابدہ بنانے کے لئے مل کر کام کرنے کا وعدہ کیا۔

دہشت گردی کے خلاف شانہ بشانہ

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے خلاف بہرصورت جدوجہد ہونی چاہئے اور دنیا کے ہر حصے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انڈیا اور امریکہ انسانیت کو درپیش اس سنگین خطرے کے خلاف اکٹھے لڑیں گے۔ انہوں نے القائدہ، داعش، جیش محمد، لشکر طیبہ، ڈی کمپنی اور دیگر گروہوں کی جانب سے درپیش دہشت گردی کے خطرات کے خلاف تعاون مضبوط کرنے کا عزم کیا۔ انڈیا نے حزب المجاہدین کے رہنما کو خصوصی طور پر نامزد  عالمی دہشت گرد قرار دینے کے اقدام کی ستائش کی جو کہ دہشت گردی کی تمام اشکال کے خاتمے کے ضمن میں امریکی عزم کا اظہار ہے۔اسی جذبے کے ساتھ دونوں رہنماؤں نے داخلی اور عالمی سطح پر افراد اور گروہوں کو دہشت گرد قرار دئے جانے کے لئے نئے مشاورتی طریق کار کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ امر یقینی بنائے کہ اس کی زمین دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کےلئے استعمال نہ ہو۔ انہوں نے پاکستان سے مزید مطالبہ کیا کہ وہ ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کے ذمہ داروں اور سرحد پار سےحملے کرنے والے دیگر گروہوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

رہنماؤں نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کےلئےباہمی تعاون میں اضافے اور انٹیلی جنس اطلاعات کے تبادلے نیز عملی سطح پر دہشت گردی کے خلاف تعاون کے ذریعہ دہشت گردوں کی عالمی بھرتی روکنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے سفری جانچ پڑتال کےلئےمصدقہ اور مشتبہ دہشت گردوں کے بارے میں معلومات کے تبادلے کا عمل شروع کرنے کا خیرمقدم  کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گرد گروہوں اور ان کے رہنماؤں کی نقل و حرکت اور ان کی جانب سے مالی وسائل اکٹھا اور منتقل کرنے کے سلسلے میں معلومات کے تبادلے کا عمل مزید موثر بنایا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی دہشت گردی پر اقوام متحدہ کے جامع کنوینشن کےلئےاپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا جس سے عالمی تعاون کو فروغ  دینے اور اس پیغام کو موثر بنانے میں مدد ملتی ہے کہ کوئی بھی سبب یا ظلم دہشت گردی کا جواز نہیں ہو سکتا۔انہوں نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ان کی منتقلی کے نظام پر قابو پانے اور انہیں دہشت گردوں اور غیرریاستی کرداروں کے ہاتھ میں جانے سے بچانے کےلئےمل کر کام کرنے کا وعدہ کیا۔

بڑھتا ہوا تزویراتی ارتکاز

صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی نے دفاع اور سلامتی کے امور میں تعاون میں اضافے کا عزم کیا جس کی بنیاد امریکہ کی جانب سے انڈیا کو اپنا بڑا دفاعی شراکت دار قرار دینے پر ہے۔ امریکہ اور انڈیا جدید دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں قریبی اتحادی اور شراکت کار کی حیثیت سے مل کر کام کریں گے۔ امریکہ نے انڈیا کو سمندری نگرانی کے خودکار فضائی نظام  کی فروخت کی پیشکش کی ہے جس سے انڈیا کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا اور سلامتی کے مشترکہ مفادات کو فروغ ملے گا۔

دونوں رہنماؤں نے جہازرانی کے شعبے میں تعاون کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے معلومات کے تبادلے کے ‘وہائٹ شپنگ’ نظام کے تحت کام کرنے کی خواہش ظاہر کی جس سے جہازرانی کے شعبے میں آگاہی بڑھانے میں مدد ملے گی۔ صدر ٹرمپ نے بحرہند کے مذاکرے میں امریکہ کی بطور مبصر شرکت کے حوالے سے وزیراعظم مودی کی موثر تائید کا خیرمقدم کیا۔ مستقبل قریب میں مالابار بحری مشقوں کی اہمیت کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے مشترکہ سمندری مقاصد اور نئی مشقوں کے حوالے سے منصوبہ بندی کو وسعت دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی شراکت کاروں کی حیثیت سے امریکہ نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ، ویزینار ارینجمنٹ اور آسٹریلیا گروپ میں انڈیا کی رکنیت کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی اصلاح شدہ سلامتی کونسل میں انڈیا کی مستقل رکنیت کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

 

آزادانہ و منصفانہ تجارت کا فروغ

دونوں رہنماؤں نے یہ عزم ظاہر کیا کہ عالمگیر معاشی ترقی کے سرخیل کی حیثیت سے امریکہ اور بھارت کو اپنا معاشی تعاون بڑھانا چاہئےتاکہ دونوں اقوام مضبوط اور ان کے شہری مزید خوشحال ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں جامع اقتصادی و ٹیکس اصلاحات کے ذریعے بے پایاں معاشی مواقع جنم لیں گے چنانچہ انہوں نے ترقی اور نوکریوں کی راہ میں حائل مشکلات ختم کرنے کے  لئےباہمی تعاون کو مزید وسعت اور توازن دینے کا عزم کیا۔ انہوں نے اس انداز میں تجارتی تعلق بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا جس سے آزادانہ و منصفانہ تجارت کے اصولوں کو فروغ ملے گا۔اس مقصد کےلئےامریکہ اور انڈیا نے تجارتی تعلقات کے جامع جائزے کا منصوبہ بنایا ہے جس کا مقصد نگرانی کے عمل کی فوری تکمیل ہے۔اس ضمن میں یہ امر یقینی بنایا جائے گا کہ ٹیکنالوجی اور اختراعات کے شعبے میں مناسب طور سے ترقی ہو رہی ہے اور زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبے میں منڈی کی رسائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی نے صنعتی شعبہ جات میں کم پیداوار کے مسئلے سے نمٹنے کےلئےباہمی تعاون بڑھانے کا بھی عزم کیا۔ انہوں نے اپنی ٹیموں سے کہا کہ وہ باہمی تجارت میں بہتری لانے کےلئےتخلیقی راہیں تلاش کریں۔

دونوں رہنماؤں نے توانائی کے شعبے میں امریکہ۔ انڈیا تعلقات اور دونوں ممالک کی توانائی سے متعلق حکمت عملی کا جائزہ لیتے ہوئے اس شعبے میں تزویراتی شراکت کی اہمیت کا اعادہ کیا اور توانائی کے سلسلے میں عالمگیر سلامتی میں اضافے کےلئےتعاون بڑھانے کے نئے امکانات زیربحث آئے۔رہنماؤں نے ایسے معقول طریق کار کی ضرورت پر زور دیا جس سے ماحول اور موسمیاتی پالیسی، عالمگیر معاشی ترقی اور توانائی کے تحفظ کی ضروریات میں توازن پیدا ہو سکے۔ صدر ٹرمپ نے اس امر کی توثیق کی کہ امریکہ اپنے ہاں توانائی کی ترقی اور سرمایہ کاری کے شعبے اور توانائی کی برآمدات میں رکاوٹیں ختم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ انڈیا کی معاشی نمو اور مشمولہ ترقی کےلئےمزید قدرتی گیس، صاف کوئلہ اور قابل تجدید ذرائع اور ٹیکنالوجی میسر آ سکے۔ وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ نے ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کمپنی اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا میں معاہدوں کی پیش بینی بھی کی جن کی رو سے انڈیا میں چھ جوہری ری ایکٹروں سمیت متعلقہ منصوبہ جات میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں ایک دوسرے کے ممالک میں دوروں کا خیرمقدم کیا جن کے ذریعے  توانائی کے شعبے میں اختراعی ربط بڑھانے میں مدد ملے گی جس میں قدرتی ایندھن کی ٹیکنالوجی، اسمارٹ گرڈ اور توانائی کی ذخیرہ کاری شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے توانائی کے منصوبوں میں مالی معاونت کی تائید بھی کی جن میں کثیر طرفی  ترقیاتی بینکوں کی جانب سے صاف کوئلے کے منصوبہ جات بھی شامل ہیں تاکہ سستی اور قابل انحصار توانائی تک تمام لوگوں کی رسائی ممکن ہو سکے۔

دنیا میں تیزتر ڈیجیٹل ترقی کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے عالمگیر ترقیاتی مسائل سے نمٹنے کی غرض سے اختراعی صلاحیتوں کو فروغ  دینے کےلئےباہمی مفید شراکت میں اضافے پر اتفاق کیا۔ عالمگیر شراکت کاروں کی حیثیت سے امریکہ اور انڈیا نے صحت، خلا، سمندر اور سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق دیگر شعبہ جات میں اشتراک بڑھانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ دونوں رہنماؤں میں مضرت رساں سائبر سرگرمیوں سے لاحق خطرات اور مسائل سے نمٹنے کے لئے باہمی تعاون مضبوط بنانے پر بھی اتفاق پایا گیا تاکہ کھلے، محفوظ اور قابل اعتبار سائبر ماحول کو فروغ دیا جا سکے اور اختراعات، معاشی ترقی نیز تجارت میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

صدر ٹرمپ نے انڈیا سے تعلق رکھنے والے اور انڈین امریکیوں کی جانب سے دونوں ممالک کے لے براہ راست فائدے کا سبب بننے والی کاروباری سرگرمیوں اور اختراعات کی تحسین کی اور ‘گلوبل انٹری پروگرام’ میں انڈیا کی رسمی شمولیت کا خیرمقدم کیا تاکہ دونوں ممالک کے شہریوں میں قریبی کاروباری اور تعلیمی تعلقات میں سہولت حاصل ہو سکے۔

صدر ٹرمپ نے وزیراعظم مودی کی جانب سے انڈیا کے دورے کے دعوت بخوشی قبول کیا۔ دونوں رہنما مستقبل میں دوستی کے جذبے کے تحت مل کر کام کریں گے