امریکہ ۔ بھارت تعلقات: اکیسویں صدی کے لئے پائیدار شراکت داری کی تعمیر

بھارت میں امریکی سفیر کینتھ آئی. جسٹر کے ریمارکس

آپ کا بہت بہت شکریہ، راجا، مخلصانہ اور فراخ دلانہ تعارف کرانے کے لئے۔  اس پروگرام کے انعقاد میں سخت محنت کرنے کے لئے کارنیگی انڈیا میں آپکے ساتھیوں اور امریکی سفارت خانہ میں میرے رفقائے کار کا بھی شکریہ۔ اور، یقینا، آپ سب لوگوں کا شکریہ، آج سہ پہر یہاں تشریف آوری کے لئے۔ بھارت میں امریکی سفیر کی حیثیت سے آج یہاں آپ کی موجودگی میں اپنی افتتاحی تقریر پیش کرنا میرے لئے باعث اعزاز ہے۔

میری خوش قسمتی ہیکہ میں 2001 سے ہی ہندوستان کے ساتھ امریکی تعلقات کے امور میں، حکومت اور نجی شعبے دونوں میں، گہرے طور سےشامل رہا ہوں۔ اس پورے عرصہ میں، اور پہلے بھی، مَیں اکثر ہندوستان کی قدیم تاریخ اور مالامال ثقافت پر حیرت زدہ ہوتا رہا ہوں۔ وادی سندھ کی تہذیب نے، جو تقریبا پانچ ہزار سال پہلے عروج پر پہنچ چکی تھی، دنیا کے اولین منصوبہ بند شہروں کا خاکہ پیش کیا۔ اس نے برصغیر کی ایک شاندار داستان شروع کی جس نے اہم مذاہب، کلاسیکی زبانوں کو جنم دیا، اور دیگر شعبوں سمیت سائنس، آرٹ، اور ادب کے میدانوں میں بے شمار تعاون پیش کیا۔

ب، جب کہ میں سفیر کے طور پر اپنے سفر کا آغاز کررہا ہوں، میں آپ کے ساتھ ۔۔ اپنے ہندوستانی دوستوں کے ساتھ ۔۔ اس بابت بات چیت کا آغاز کرنا چاہوں گا کہ ہمارے رشتے 21 ویں صدی پر کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ میرے خیالات، جو میں پیش کررہا ہوں، آپ کی رائے سے ہی مکمل ہوں گے۔ لہذا میں آپ کے ردعمل کا منتظر رہوں گا۔

 بھارت کا دوست

مجھے ابتدا میں ہی تسلیم کرنے دیجئے کہ امریکی سفیر نامزد ہونے کے بہت سے فائدے ہیں۔ خاص طور سے، میری زندگی کے تمام شعبوں سے جُڑے لوگ، اور کچھ وہ جن سے میں کبھی نہیں ملا، میرے بارے میں تعریفی کلمات کہنے کے لئے سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ وہ تمام باتیں درست نہیں ہو سکتیں، لیکن یقینی طور پر ان سے اچھا محسوس ہوتا ہے!

ایک تعریفی کلمہ، جو مجھ پر صادق آتا ہے، بھارت کے صدر نے کہا جب میں نے انہیں اپنی اسناد پیش کیں: انہوں نے مجھے ’’بھارت کا دوست‘‘ کہا۔ یہ وہ ستائش ہے، جو دوسرے لوگوں نے بھی کی ہے، جسے میں اپنے لئے بڑی عزت افزائی سمجھتا ہوں۔ میں نے غور کیا ہے کہ ’’بھارت کا دوست‘‘ ہونے کا مطلب کیا ہے، اور کیوں مجھے لگتا ہے کہ یہ اہم ہے۔

 

پہلی بار جب میں نے انڈر سکریٹری آف کامرس کی حیثیت سے بھارت کے ساتھ پالیسی امور پر کام کرنا شروع کیا، ہمارے دونوں ممالک کو فوجی اور روایتی دونوں استعمال والی حساس امریکی ٹیکنالوجی ۔۔ نام نہاد طور پر ’دوہرے استعمال کی اشیاء‘ ۔۔ کی منتقلی سے متعلق مشکل اور پیچیدہ مسائل کا سامنا تھا۔ بھارت اس ٹیکنالوجی تک زیادہ سے زیادہ رسائی چاہتا تھا، جبکہ امریکہ یہ اطمینان کرنا چاہتا تھا کہ منتقل کی جانے والی کوئی بھی ٹکنالوجی بلا شرکت غیرے صرف مجاز وصول کنندگان ہی اتفاق شدہ مقاصد کے لئے استعمال کریں۔ اسکے لئے برآمد کنٹرول کے ایک ایسے جدید نظام کی ضرورت تھی جو صاف طور پر کہیں کہ اُس وقت بھارت کے پاس موجود نہیں تھا۔

 

اس موضوع پر ہمارے ابتدائی تبادلے ہماری پوزیشنوں میں واضح طور پر وسیع خلیج کی وجہ سے بالکل رسمی اور کسی حد تک کشیدہ تھے۔ تاہم، ہم نے جلد ہی دو طرفہ اقدامات کا ایک سلسلہ وضع کرلیا تاکہ ہم ایک دوسرے کا اعتماد حاصل کرسکیں اور آگے بڑھ سکیں۔ اور دیکھئے کہ ہم کتنی دور پہنچ گئے ہیں۔ اب، بھارت کثیر فریقی ایکسپورٹ کنٹرول کے چار نظام میں سے دو ۔۔ دوہرے استعمال کی اشیاء سے متعلق واسینار معاہدہ جس میں بھارت نے حال ہی میں شمولیت اختیار کی ہے اور میزائیل ٹکنالوجی کنٹرول ریجم ۔۔ میں اپنی رکنیت کا جشن منا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت مستقبل قریب میں ہی کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق آسٹریلیا گروپ میں بھی شامل ہو جائے گا۔ اور جوہری سپلائرس گروپ میں بھارت کی رکنیت کے حصول کی خاطر ہم بھارت اور ہمارے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بغور کام کر رہے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ، امریکہ بھارت کو دوہری استعمال کی اشیاء کی برآمد کے سلسلے میں اپنی امتناعی پالیسی سے آگے بڑھ کر کہیں زیادہ لبرل رویہ اختیار کرنے لگا ہے۔

 

مجھے لگتا ہے کہ یہی وہ طریقہ تھا جس سے امریکی اور بھارتی حکام اس تبدیلی تک پہنچے جسکے سبب کچھ لوگ مجھے ’’بھارت کا دوست‘‘ کہنے لگے۔ مجھے اس نقطہ نظر کو مختصراً بیان کرنے دیجئے۔

 

یہ شروع ہوا ۔۔ جیسا کہ ہمیشہ ہونا چاہئے ۔۔ احترام کے ساتھ۔ حالانکہ امریکی اور بھارتی سفارت کاروں نے یقینیاً اپنے اپنے قومی مفادات کی پیروی کی، ہم نے ایک دوسرے کو توجہ سے سنا، دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کی، اور مشترکہ مفادات اور باہمی سود مند حل کی تلاش کی۔

ہم نے ایک دوسرے پر اعتماد بھی کیا۔ اس میں کھلاپن اور اخلاص شامل تھا۔ ’’جو کہو سو کرو اور جو کرو سو کہو‘‘ ایک قدیم کہاوت ہو سکتی ہے لیکن اعتماد سازی کے لئے یہ ضروری ہے۔

یقینا، کئی موقعوں پر ہم متفق نہیں تھے۔ لیکن پھر بھی دوستوں کی طرح ہم نے ایک دوسرے کو قبول کیا، کیونکہ ہمارے متعدد مفادات مشترک تھے۔ اس قبولیت نے ہمیں اختلافات کے ذریعے کام کرنے اور بغض و عداوت کے بغیر اور یقینی طور پر ہمارے رشتوں کو خطرے میں ڈالے بغیر آگے بڑھنے کے قابل بنایا۔

 

ہمارے نقطہ نظر کا ایک اور اہم کردار اعتماد تھا۔ چونکہ دوست ایک دوسرے کے اچھے ارادوں پر یقین رکھتے ہیں، ہمیں کبھی کبھار خطرات لینے میں اعتماد محسوس ہوا۔ یہاں تک کہ بڑے خطرات بھی – جو بالآخر مطلوبہ منزل تک پہنچنے میں ہمارے لئے مددگار ہو سکتے تھے۔

 

اور، آخر میں، ہم نے لچک اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا۔ ہم نے بڑے منصوبوں کو سراہا اور اس راہ میں ناگزیر طور پر پیش آنے والی رکاوٹوں اور مایوسیوں سے باہر نکل آئے۔ ہم نے ’جیسے کو تیسا‘ قسم کے رشتے میں نہ الجھ کر خود کو کمزور کرنے کا موقع نہیں دیا۔ اور، بلا شبہ، اس سے قطعی طور پر اچھے مزاح کی حس پیدا ہوئی۔

 

یہ خصوصیات – احترام، اعتماد، قبولیت، بھروسہ، اور لچک و مستقل مزاجی – اہم تھیں ان کامیابیوں کے لئے جو ہم نے حاصل کیں۔ یہی خصوصیات ہمارے عوام سے عوام کے تعلقات کا بنیادی حصہ ہیں، اور امریکہ میں بڑا بھارتی ڈاسپورا، جو امریکی زندگی میں پوری طرح شامل ہو گیا ہے، اور پھر بھی بھارت سے قریبی تعلق برقرار رکھے ہوئے ہے، اسکی بہترین مثال ہے۔ خاص طور پر بھارتی کاروباری افراد نے ہماری دو ثقافتوں کے بیچ کامیابی سے رشتہ قائم کردیا ہے اور  امریکی ٹیکنالوجی کے منظرنامے پر شاندار نقش بنایا ہے جس سے بھارت بھی مستفید ہورہا ہے۔ آج، امریکہ میں تمام تارکین وطن کے قائم کردہ اسٹارٹ اپس میں تقریبا 33 فی صد حصہ ہندوستانی بانیوں کا ہے۔ یہ تعداد کسی بھی دوسرے گروپ سے کہیں زیادہ ہے۔ یقینا، بھارتیوں اور امریکیوں کے درمیان بات چیت کے انسانی پہلو نے اس ناقابل یقین اعداد و شمار تک پہنچنے میں مدد کی ہے۔

 

میں امید کرتا ہوں کہ یہی جذبہ اور رجحان، جو صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کے درمیان تعلقات میں بھی جھلکتا ہے، ہمارے دو ممالک کے سرکاری حکام کے بیچ معمول کی بات چیت میں بھی شامل رہے گا اگر ہم اپنے اسٹریٹجک شراکت داری کی توقعات کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔

 

ہمارے اقدار اور مفادات

 

متنوع، متحرک، کثیر مذہبی اور تکثیری جمہوریتوں کے رکن ہونے کے ناطے، ہندوستانیوں اور امریکیوں کے بیچ انفرادی آزادی، سخت محنت اور انٹرپرائز، کھلے معاشرے، انسانی حقوق، اور قانون کی حکمرانی کی بنیادی قدریں مشترک ہیں۔ یہ اقدار محض فائدے کے بجائے پختہ عزم کی بنیاد پر قائم ہونے والی دوستی کو مضبوط کرتے ہیں۔ ہمارے اقدار کے مطابق، قوانین پر عمل درآمد کرنا، کاروبار اور تجارت کی آزادی سے لطف اندوز ہونا اور تنازعات کو بین الاقوامی قانون کے مطابق پُر امن طریقے سے حل کرنا ہمارے مشترک مفادات میں شامل ہے۔

 

ہندبحرالکاہل علاقہ

 

ہمارے مشترک اقدار اور مشترک مفادات ہند۔بحرالکاہل خطے کے لئے ہمارے نقطہ نظر میں جان ڈالتے ہیں۔ یہ خطہ دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے تیزی سے فروغ پذیر معیشتوں اور اس کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک پر مشتمل ہے۔ اس کے سمندر میں عالمی تجارت کے لئے بہت سے اہم پُرکشش امور شامل ہیں۔ اس کا جغرافیہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ اور یہ تیزی سے جدید بین الاقوامی نظام کا مرکز کشش بنتا جا رہا ہے۔

 

جیسا کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں تسلیم کیا جاتا ہے، بھارت، ہند ۔ بحرالکاہل خطے میں اور اس سے پرے ’’ ایک سرکردہ طاقت‘‘ ہے۔ بھارت اور امریکہ کے لئے، ، ہند ۔ بحرالکاہل ہمارے لوگوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے بہت اہم ہے۔ ہم ملکر چاہتے ہیں:

 

  • ایک آزاد اور کھلے خطے کو یقینی بنانا، جہاں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے اصول قوانین پر مبنی نظام میں ظاہر ہوتے ہیں۔

 

  • خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لئے احترام کو فروغ دینا۔

 

  • سمندری آمد و رفت، پرواز، اور تجارت اور سمندر کے دیگر قانونی استعمال کی آزادی کی ضمانت۔

 

  • اس بات کو یقینی بنانا کہ علاقائی اور سمندری تنازعات بین الاقوامی قانون کے مطابق، پُرامن طریقے سے حل ہوں۔

 

  • نجی شعبے کی زیر قیادت ترقی، آزاد اور منصفانہ تجارت، ذمے دار قرض فنانس کے طریقوں کے استعمال، اور بنیادی ڈھانچے کی شفاف ترقی کے ذریعہ اقتصادی رابطے کو فروغ دینا، اور

 

  • ہم مل کر علاقائی استحکام اور سلامتی کو تحفظ دینا، بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کی روک تھام کو روکنا اور دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

 

امریکہ – بھارت اسٹریٹجک پارٹنرشپ

 

امریکہ – بھارت اسٹریٹجک شراکت داری دونوں ملکوں کو مضبوط بنانے اور اس خطے پر سود مند اثرات مرتب کرنے کے لئے وضع کی گئی ہے۔ حال ہی میں ترتیب دئے گئے قواعد و ضوابط جامع ہیں، اور ہم کسی بھی ملک کے ساتھ کام کرنے کا خیرمقدم کرتے ہیں جو انہیں اپناتا ہے۔

 

گزشتہ 17 سالوں میں، امریکہ اور بھارت نے مل کر بہت سارے کام کئے ہیں۔ اس عرصہ میں جو اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں اُن میں  ہمارے دفاعی تعاون کی توسیع اور مشترکہ فوجی مشقیں، اعلی ٹیکنالوجی تعاون کے گروپ اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں اگلے مرحلے کی کارکردگی، تاریخی سول ایٹمی معاہدہ، امریکہ۔بھارت تجارت میں تقریبا چھ گنا اضافہ، دفاعی ٹیکنالوجی اور تجارتی پہل اور ایک بڑے دفاعی ساتھی کے طور پر بھارت کی نامزدگی، اور تجارت، توانائی، ماحول، سائنس، ٹیکنالوجی، صحت اور دیگر شعبوں سے متعلق بہت سے دیگر اقدامات شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس شراکت داری کو ہمارے دونوں ملکوں میں حکومت کی کئی تبدیلیوں کے دور میں بڑی سیاسی جماعتوں کی مضبوط، بااصول اور مسلسل حمایت حاصل رہی ہے۔

 

اور پھر بھی، اس سب کے باوجود، ہم سے اب بھی پوچھا جاتا ہے، ’’کیا امریکہ ایک معتبر پارٹنر ہے جو اس خطے میں مکمل طور پر برسرکار رہے گا؟‘‘ یا ’’ہمارے تعلقات کو فروغ دینے کے لئے آئندہ کیا خاص پہل ہوگی؟‘‘ جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوالات بے محل ہیں، پھر بھی یہ ان اندیشوں کو بیان کرتے ہیں جن پر ہمیں قابو پالینا چاہئے۔ جب ہم اس شراکت داری کے تئیں اپنے باہمی عزم پر شک و شبہ کرنا بند کر دیتے ہیں اور اس کی قدر و قیمت کو ثابت کرنے کے لئے دوسری پہل کی تلاش روک دیتے ہیں، کیا ہم واقعی تب سمجھیں گے کہ اچھی پیش رفت ہو رہی ہے۔

 

گزشتہ 17 سالوں کا جائزہ لینے کے بعد مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ ہم نے اسٹریٹجک شراکت داری کے لئے ایسی مضبوط بنیاد رکھی ہے جو 21 صدی پر اور اسکے آگے بھی بہت اہم، مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اب اس بنیاد پر لچکدار لیکن شفاف انداز میں آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ ہمیں اپنی رو بہ اضافہ دشواریوں سے آگے نکل کر کچھ ایسا کام کرنا ہے جو دونوں ملکوں کے لئے طویل عرصہ تک  کارگر ہو ۔۔ کچھ ایسا جو خطے کے لئے ایک پائیدار آر کیٹکچر کی شکل لے سکے۔

 

امریکہ کے آزاد، محفوظ، اور کھلے ہند بحر الکاہل کے دیرینہ عزم نے ہم سب کے فائدے کے لئے اس خطہ میں استحکام اور شاندار اقتصادی ترقی کو نئی بنیاد فراہم کی ہے۔ ہم اس خطے کے لئے پُر عزم رہیں گے کیوںکہ ہم اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کے پابند ہیں – اور کیونکہ ہمارا مستقبل پوری طرح اس سے منسلک ہے۔ ہم اس کام میں اپنے ساتھ بھارت کی قیادت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ پُرعزم شراکت دار کے طور پر اور ایک علاقائی آر کیٹکچر پر ہم خیال ملکوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ ہند بحر الکاہل ۔۔ سکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن کے لفظوں میں ۔۔ تیزی سے امن، استحکام، اور بڑھتی ہوئی خوشحالی کی جگہ بن رہا ہے نہ کہ بدنظمی، جھگڑے، اور لٹیری اقتصادی پالیسی کی۔

 

مجھے اُن پانچ ستونوں کا مختصراً ذکر کرنے دیجئے جو ہماری پائیدار شراکت داری کے لئے فریم ورک فراہم کرسکتے ہیں۔

 

دفاع اور انسداد دہشت گردی

 

ہند بحرالکاہل خطے کی طویل مدتی سلامتی اور استحکام میں اضافے کے لئے دفاع اور انسداد دہشت گردی پر ہمارا تعاون ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک متعلقہ اور اتنا ہی اہم مقصد بھارت کی مدد جاری رکھنا ہے جو خاص طور سے بحر اوقیانوس اور اس کے آس پاس میں امن کو درپیش خطرات کا موثر جواب دینے کا اہل ہے اور علاقائی سلامتی فراہم کررہا ہے۔ ہم ان مقاصد کو کئی طریقوں سے آگے بڑھا سکتے ہیں، جن پر ہم اس موسم بہار میں اپنے نئے 2 + 2 وزارتی مذاکرات میں تبادلہ خیال کریں گے اور اُنہیں دونوں جانبین کے عمل کے لئے روڈ میپ میں شامل کریں گے۔

 

تعاون بڑھانے کا ایک طریقہ فوجی مشقوں کے ذریعے ہے۔ بھارت اور امریکہ پہلے سے ہی دو طرفہ مشقوں کی مضبوط سیریز منعقد کرتے رہے ہیں۔ جبکہ ان میں زیادہ تر حقیقت پسندانہ سنگل سروس منظرنامے ہوتے ہیں، لیکن اب کثیر سروس مشق پر غور کرنے کا وقت ہے جو شاید انسانی امداد اور آفات کے وقت راحت رسانی پر مرکوز ہو۔ فوجی تربیت کی یہ اعتدال پسند توسیع دونوں ملکوں کو یہ موقع فراہم کرائے گی کہ وہ ایک دوسرے سے سیکھنے کے عمل کو تیز کریں اور ساتھ کام کرنے میں ہماری سہولت، آسانی، اور اعتماد میں اضافہ کریں۔

 

تعاون کے دوسرے اہم دائرہ کار میں فوجی ہارڈ ویئر اور ٹیکنالوجی شامل ہے۔ ایک دہائی سے تھوڑا زیادہ عرصہ میں، بھارت کے ساتھ امریکی دفاعی تجارت میں فی الواقع ناقابل ذکر سے 15 بلین ڈالر تک کا اضافہ ہوا ہے، اور اس میں امریکہ کے کچھ انتہائی جدید ترین فوجی سازوسامان کی فروخت بھی شامل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ رجحان جاری رہے کیوںکہ بھارت کی دفاعی ضروریات وسیع ہیں، اور، کیوںکہ امریکہ، جو اعلی درجے کی فوجی ٹیکنالوجی کی ترقی میں عالمی رہنما ہے، ہندوستان کی سیکورٹی میں اضافے کے لئے پُرعزم ہے۔ اس عزم کی ایک اہم مثال گزشتہ جون میں ٹرمپ انتظامیہ کا ’سی گارجین اَن مینڈ ایریئل سسٹم‘ کی فروخت کو منظوری دینے کا فیصلہ ہے جسکے نتیجہ میں بھارت ہمارا پہلا غیر نیٹو پارٹنر یا معاہدے کا حلیف بنا جسے یہ جدید پلیٹ فارم حاصل ہوا ہے۔

 

اپنے ملک میں زیادہ سے زیادہ سامان بنانے کی بھارت کی خواہش کے مطابق، میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ امریکہ محض ایک سپلائر نہیں بلکہ اس سے بڑھکر ہے۔ بڑی امریکی دفاعی کمپنیاں پہلے سے ہی بھارت میں پیچیدہ دفاعی نظام کے اجزاء تیار کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، ہماری ’دفاعی ٹیکنالوجی اور تجارتی پیش قدمی‘ اور مِل کر ساز و سامان تیار کرنے اور ترقی دینے کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ذریعہ بھارت کو اہم دفاعی پارٹنر نامزد کیا جانا، دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے ہمارے ارادے کا حصہ ہیں۔ ہم بھارت کی اُسکے اپنے گھریلو اڈے اور استعداد کو فروغ دینے کی کوششوں میں مدد کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ہند بحرالکاہل خطے میں اہم دفاعی حلیف کے طور پر دونوں ملکوں کی فوجوں کی انٹرآپریبلٹی میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔

 

مفادات کا امتزاج اِن اقدامات کی مستقبل میں کامیابی کی تائید کرتا ہے ۔۔ ہندوستانی حکومت کی ٹیکنالوجی اور فوجی سازوسامان ملکر تیار اور ارتقا کرنے میں دلچسپی؛ امریکی حکومت کی معلومات اور ٹیکنالوجی کی حفاظت میں دلچسپی؛ ہماری افواج کی انٹرآپریبلٹی میں اضافہ کرنے میں ہماری مشترکہ دلچسپی؛ اور دونوں ممالک میں ملازمتیں پیدا کرنے اور اُن میں اضافہ کرنے میں ہماری کمپنیوں کی مشترکہ دلچسپی۔ یہ مفادات کبھی پوری طوح یکساں نہیں ہوں گے، اور انکا بوجھ صرف ایک یا کسی دوسرے فریق پر نہیں گر سکتا۔ بلکہ، جیسا کہ ہم نے اس سے قبل دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کے سلسلے میں کیا ہے، تمام فریقوں کو مشترک نکات اور باہمی سودمند حل تلاش کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اس عمل کے فائدے حاصل کرسکیں۔

 

ہمیں تمام مسائل بیک وقت حل کرلینے کی توقع رکھنے کی بجائے، ان دفاعی اقدامات پر صبر سے قدم بہ قدم آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، شاید اگلے سال ہم انٹیلی جنس، نگرانی اور فوجی دیکھ ریکھ کے پلیٹ فارموں ۔۔ لڑاکا طیاروں کی پیداوار؛ اور فیوچر ورٹکل لفت پلیٹ فارم یا ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی گرائونڈ کمبیٹ وھیکلس سمیت اگلی نسل کے نظام کا ملکر ارتقا کرنے جیسے شعبوں میں بہت اہم معاہدوں کا اعلان کر سکتے ہیں۔

 

دفاعی تعاون کو فروغ دینے کا تیسرا طریقہ فوجی تبادلوں کے ذریعے ہے۔ ہمارے تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تبادلے پُروقار انداز میں میل ملاپ میں اضافہ کرتے ہیں اور اور کلاس روم اور دیگر ترتیبات میں ترقی اور فروغ پانے والے تعلقات پر مبنی اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ، ہمیں اپنے جنگی کالجوں اور ٹریننگ اداروں میں افسروں اور یہاں تک کہ متعلقہ جنگی کمانوں میں پوسٹ ریسیپروکل ملٹری لائزن افسروں کے ایکسچینج کو بڑھانا چاہئے۔

 

اس ستون کے بارے میں ایک آخری، اہم نکتہ انسداد دہشت گردی کے شعبہ میں ہمارا اہم اور بڑھتا ہوا تعاون ہے۔ ہمارے ممالک میں سے ہر ایک کو خوفناک دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ہمیں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ معاشرے سے اس خطرے کو ختم کرنے میں ہماری مضبوط باہمی دلچسپی ہے۔ صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ ہم کہیں بھی سرحد پار دہشت گردی یا دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ اس کوشش کے ایک حصے کے طور پر، ہم نے گزشتہ ماہ امریکہ-بھارت انسداد دہشتگردی تعین ڈائیلاگ کا آغاز کیا۔ ہمیں علاقائی اور عالمی دونوں سطح پر معلومات کے تبادلے، دہشت گردوں کی نامزدگی، مالی جرائم اور نیٹ ورک کا مقابلہ کرنے، اور دہشت گردوں کے کیمپوں اور آپریشنوں کو روکنے اور تباہ کرنے کی کارروائیوں میں شدت لانے کی ضرورت ہے۔

 

اقتصادی اور تجارتی تعلقات

 

اب مجھے ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کی تعمیر میں ایک دوسرے ستون اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر گفتگو کرنے دیجئے۔ بھارت اقتصادی چڑھائو کے دوران میں ہے کیونکہ وہ عالمی معیشت سے خود کو تیزی سے ہم آہنگ کررہا ہے۔ اس کے نتیجے میں، بھارت کے ساتھ امریکہ کے تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات بڑھ رہے ہیں۔ دو طرفہ تجارت 2001 میں تقریبا 20 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2016 ء میں 115 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ، ہمارے وسیع بازاروں کے مدنظر، تجارت کو زیادہ دو طرفہ بنانے کے لئے دونوں سمتوں اور عمل میں اشیا اور خدمات کی ترسیل کو وسعت دینے کے لئے بہت سارے امکانات اب بھی موجود ہیں۔

 

امریکہ منصفانہ اور متوازن تجارت کو یقینی بنانے اور ساتھ کام کرنے کے لئے اپنے تمام شراکت داروں پر بھروسہ کرتا ہے۔ ہم مسلسل تجارتی خسارے کے تعلق سے فکر مند ہیں، جس کا سامنا بھارت کو بھی ہے۔ ہم بھارت کے ذریعہ اصلاحاتی ایجنڈا جاری رکھنے، مارکیٹ تک رسائی کو وسیع کرنے اور دانشورانہ ملکیت کے تحفظ کو مزید بڑھانے کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اور ہم تجارتی اور سرمایہ کاری کے تنازعات کو تیزی سے حل کرنے کے لئے بھارت کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔  ہمارے خیال میں، مکمل طور پر آزاد اور منصفانہ تجارت بھارت کی طویل مدتی شرح ترقی کی کو مسلسل طریقے سے بہتر بنانے کی وزیراعظم مودی کی کوششوں کو سہارا دیتے ہوئے تیز کرے گی۔ اس سلسلے میں، بھارت کو عالمی بینک کی سہولیات کاروبار انڈیکس میں بھارت کو مزید اوپر لیجانے کا وزیر اعظم کا عزم ترغیب دیتا ہے۔

 

’’امریکہ فرسٹ‘‘ اور ’’میک ان انڈیا‘‘ باہم متضاد نہیں ہیں۔ بلکہ، ایک دوسرے کی مارکیٹوں میں سرمایہ کاری باہمی طور پر فائدہ مند ہوگی ۔۔ اس سے ہمارے اقتصادی تعامُل اور تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تعاون کے لئے رہنمائی ہوگی، اور دونوں ملکوں میں روزگار پیدا ہوں گے۔

 

لیکن مجھے اس سے آگے جاکر یہ مشورہ دینے دیجئے یہ وقت ہمارے اقتصادی تعلقات پر ایک اسٹریٹجک لینس ڈالنے کا ہے – جیسا کہ ہم نے اپنے دفاعی تعلقات کے سلسلے میں کیا ہے۔ متعدد امریکی کمپنیوں نے خطے میں سب سے بڑی منڈی چین میں کاروبار کرنے میں بڑھتی ہوئی مشکلات کی اطلاع دی ہے۔ چنانچہ، کچھ کمپنیاں وہاں اپنے کاروبار محدود کر رہی ہیں، جبکہ دیگر متبادل بازاروں کی طرف بہت دلچسپی سے دیکھ رہی ہیں۔

 

بھارت اس اسٹریٹجک موقع کا فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے ۔۔ انڈرو پیسفک خطے میں امریکی کاروبار کے لئے ایک متبادل مرکز بننے کے لئے- وزیر اعظم مودی کی طرف سے پہلے سے ہی شروع کیا گیا اقتصادی اور ریگولیٹری اصلاحات کا عمل یہ یقینی بنائے گا کہ بھارت کو ایک تیزی سے ابھرتا ہوئے موثر، شفاف، اور پوری طرح منظم شدہ مارکیٹ کے طور پر دیکھا جائے۔ اس سے نشو ونما اور ترقی کو مزید فروغ ملے گا۔ مسلسل اصلاحات اور تجارتی لبرلائزیشن بھی ہندوستانی مصنوعات کو گلوبل سپلائی چین کا حصہ بنایں گی اور اس طرح تیزی سے روزگار پیدا ہوں گے۔

 

ہمارے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور امریکی کاروبار کے لئے بھارت کو علاقائی مرکز بنانے کے بہت سے فوائد ہیں۔ حیدرآباد میں حالیہ گلوبل انٹرپرینرشپ سمٹ میں اس امر کا واضح مظاہرہ ہوا کہ جدت طرازی کے لئے موافق ماحول کا ملک کی معیشت پر کتنا نازک اور مثبت اثر پڑتا ہے۔ امریکہ انٹرپرینرشپ اور جدت  میں ایک رہنما ہے، اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت کے ساتھ پہلے ہی سے وسیع پیمانے پر تعلق رکھتا ہے۔ امریکی تجارت اور سرمایہ کاری کے لئے بھارت کی معیشت کو مزید کھولنا بہت سی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں ہمارے تعاون کے لئے مہمیز کا کام کرے گا جو ہماری معیشتوں بشمول اعلی درجے کی مصنوعات سازی اور سائبر سیکورٹی سے متعلق امور کو سنبھالے گا اور حفاظت کرے گا۔

 

دانشورانہ اثاثے کی حفاظت کرنے والے مضبوط ماحول کے ساتھ وسیع تر امریکی تجارت اور سرمایہ کاری، پونجی کی آمد میں اضافے اور دانشورانہ معلومات کے تبادلے کا سبب بنے گی۔ تکنیکی تبدیلی کو مسلسل اپ گریڈ کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس وقت ہوتی ہے جب ممالک بے روک بین الاقوامی اقتصادی اور ڈیٹا کے سلسلے میں شامل ہوں۔

 

امریکی مصنوعات اور خدمات کی اضافہ شدہ کشادگی اور امریکی کمپنیوں کی وسیع تر موجودگی، بہتر بنیادی ڈھانچہ اور مجموعی کنیکٹوٹی میں نجی سیکٹر سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کرے گی۔ مثال کے طور پر، امریکی کمپنیوں کی جدید ٹیکنالوجی ملک بھر میں 100 اسمارٹ شہر بنانے کے بھارت کے حوصلہ مند مقصد میں مددگار ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکہ-بھارت کا ایک مشترکہ کارخانہ لوکوموٹو بنا رہا ہے جو بھارت ریلوے کو جدید بنانے کے عالمی معیار اخراج کے مطابق ہے۔ اور سول ایوی ایشن ایک اور اہم شعبہ ہے جہاں بہتر شراکت داری دونوں ملکوں کی معیشت کو آگے بڑھانے میں مددگار ہوگی۔

 

ہمارے اقتصادی تعلقات میں اضافہ بھارت اور ہند بحرالکاہل خطے کو لازمی طور پر ایک وسیع تر اور زیادہ گہرا امریکی عزم فراہم کرے گا۔ یہ ہماری بڑھتی ہوئی دفاع اور انسداد دہشت گردی کی شراکت داری کو پورا کرے گا، اور اس راہ میں پیدا ہونے والے کسی بھی پالیسی اختلاف کو کم کرے گا۔

 

اس ستون کے حوالے سے ایک حتمی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشی تعلقات کا ایک اسٹریٹجک نقطہ نظر بالاخر یو ایس-انڈیا آزاد تجارتی معاہدے کے لئے روڈ میپ کی جانب لے جا سکتا ہے۔ یقیناً، ہم ابھی اس آرزو کی تکمیل سے کافی دور ہیں، اور اس سلسلے میں بہت سے اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں افہام و تفہیم میں اضافہ کرنے، اعتماد کو بہتر بنانے اور مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنے ٹریڈ پالیسی فورم اور اپنے کمرشل ڈائیلاگ کا استعمال کرنے کے تخلیقی طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔ اعلی ٹیکنالوجی کی برآمدات اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں نیکسٹ اسٹیپس کے ہمارے تجربے کے مطابق، ہم کہاں جانا چاہتے ہیں کا نظریہ آج کی تجارت اور سرمایہ کاری کے مسائل کو تیزی سے حل کرنے اور بین الاقوامی کمپنیوں کو یہ سگنل فراہم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے کہ بھارت کاروبار کے لئے مکمل طور پر کھلا ہے۔

 

توانائی اور ماحولیات

 

بہتر اسٹریٹجک تعاون کے لئے بالکل تیار تیسرا ستون توانائی اور ماحولیات ہے۔ بھارتی معیشت کے متوقع ارتقا، اس کی آبادی کے بڑھتے ہوئے سائز، اس کے مڈل کلاس کا ابھرنا، اور اس کی زمین کی شہرکاری کے پیش نظر بھارت کی پائیدار اور جامع ترقی کے لئے توانائی کی ضرورت آنے والے کئی سالوں میں بہت زیادہ ہونے جا رہی ہیں۔

 

امریکہ خاص طور سے اس پوزیشن میں ہے کہ وہ بھارت کو ایک جامع توانائی کی شراکت داری کی پیشکش کرے۔ اس میں توانائی کی تمام اقسام – کوئلہ؛ خام تیل؛ قدرتی گیس؛ اور جوہری طاقت؛ ساتھ ہی فوسل ایندھن کی صفائی، اسمارٹ گرڈ، توانائی اسٹوریج، اور قابل تجدید وسائل سے متعلق ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ درحقیقت، پچھلے سال امریکہ نے بھارت کو خام تیل کی پہلی بڑی کھیپ برآمد کی۔ امریکہ معاون خدمات، بنیادی ڈھانچہ، اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں بھی مدد کرسکتا ہے جو توانائی کے گھریلو ذرائع کو مزید فروغ دینے اور توانائی کی سیکورٹی بڑھانے کے لئے بھارت کی کوششوں کے لئے ضروری ہیں۔

 

اس سال کے آغاز میں امریکہ – بھارت اسٹریٹجک توانائی شراکت داری کی وزارتی سطح کی میٹنگ ہوگی، اور ہم انرجی سیکرٹری پیری کا نئی دہلی میں خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں۔ بجلی اور توانائی کی کارکردگی پر ہمارا مشترکہ کام ایک خاص کوشش ہے۔ اب جبکہ بھارت اپنے وسیع پذیر پاور گرڈ میں استحکام لانے کے لئے کوششیں کررہا ہے، امریکی کمپنیاں اوورلوڈیڈ ٹرانسمیشن اور نظام تقسیم کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ٹیکنالوجی اور مہارت پیش کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ہم پالیسیوں کی اقسام، قواعد و ضوابط، اور مالی سرمایہ کاری پر تعاون کر رہے ہیں جو ایک مستحکم اور منافع بخش گرڈ کی ترقی میں معاون ہوو گے۔

 

ہمارا ماحولیاتی تعاون سمندروں اور سمندری علاقوں تک پھیلا ہوا ہے جو وزیر اعظم مودی کے سمندر پر مبنی معیشت (بلیو اکنامی) کے عزم سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس میں حیاتیاتی تنوع، اور کان کنی اور سمندری آلودگی پر سائنسی تبادلے شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک آنے والی دہائیوں میں ماہی پروری اور ساحلوں پر آباد کمیونٹی کو برقرار رکھنے میں مددگار ہونی چاہئیں۔ بے شک، ان کوششوں کو وسیع تر سمندری ماحول کی حفاظت کے لئے علاقائی بنیاد پر وسعت دی جا سکتی ہے۔

 

سائنس، ٹیکنالوجی، اور صحت

 

ہماری شراکت داری کا چوتھا ستون ہمارے لوگوں کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں پائیدار اور جامع ترقی پر ہماری توجہ ہے۔ اس میں سائنس، ٹیکنالوجی، اور صحت کے شعبوں میں اہم کام شامل ہیں۔ ہمارے امریکہ – بھارت سائنس اور ٹیکنالوجی انڈائومنٹ فنڈ نے صحت کی دیکھ بھال کو ترقی دینے، ماحولیات کو بہتر بنانے اور زراعت کو جدید بنانے سمیت متعدد اختراعی منصوبوں کی مدد کی ہے۔ اور زمین سے آگے خلا میں، ناسا اور اسرو کے سائنسداں اکثر مل کر کام کرتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری شراکت داری میں واقعی کوئی حد نہیں ہے۔

 

صحت سے متعلق مسائل، خاص طور پر، ایک اہم مشترکہ ذمہ داری ہیں، محض اس وجہ سے نہیں کہ ان کا ہمارے لوگوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود پر براہ راست اثر پڑتا ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ انکا بالواسطہ اثر اقتصادی پیداوار اور مجموعی سماجی فلاح و بہبود پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بیماری کا علاج کرنے کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ ہم نے مشترکہ طور پر روٹاوائرس کے لئے پہلا دیسی بھارتی ویکسین تیار کیا، اور اب ٹی بی، ڈینگی اور دیگر ابھرتے ہوئے عالمی خطرات سے نمٹنے کے لئے ویکسین تیار کرنے میں تعاون کر رہے ہیں۔ ہم عالمی گلوبل ہیلتھ سیکیورٹی ایجنڈے میں بھی مصروف ہیں، جس میں اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کا مقابلہ کرنے اور وبائی امراض کا پتہ لگانے، اُن کی روک تھام اور علاج کو مستحکم کرنے کے کام کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ہمارا ہیلتھ  ایجنڈا ایچ آئی وی کے پیچیدہ مسئلہ اور غیر مواصلاتی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر بھی دھیان دیتا ہے۔

 

علاقائی تعاون

 

ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کی تعمیر میں حتمی ستون استحکام اور فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے لئے علاقائی تعاون ہے۔ مجھے تعاون کے چند دائرہ کار کو مختصرااجاگر کرنے دیجئے۔

 

پہلا افغانستان ہے، جہاں امن، سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دینے میں ہم دونوں کے مضبوط مفادات ہیں۔ ہمارے رہنما افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت کی مدد کرنے اور اس ملک کے جمہوری اداروں کی تعمیر میں مدد کرنے کے سلسلے میں پُرعزم ہیں۔ ہم دونوں ہی افغانستان کی تعمیر نو اور مستقبل پر کافی وسائل خرچ کررہے ہیں۔ یہ کوششیں نہ صرف علاقائی ترقی اور استحکام کو آگے بڑھاتی ہیں بلکہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے میں بھی مددگار ہوتی ہیں۔

 

تعاون کے لئے ایک دوسرا علاقہ ہے جاپان اور آسٹریلیا سمیت خطے میں دیگر ہم خیال ملکوں کے ساتھ کثیر جہتی سرگرمیاں۔  ہم نے پہلے ہی جاپان کے ساتھ مالابار بحری مشق کی ہے، اور ہماری سہ فریقی بات چیت کی گنجائش مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دس سال میں پہلی مرتبہ، ہم نے آسٹریلیا کے ساتھ چار فریقی مشاورت کی ہے، اور قواعد پر مبنی انڈو پیسفک خطے میں خوشحالی اور سلامتی میں اضافہ کے لئے ہمارے نقطہ نظر پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ہمیں آنے والے سالوں میں کثیر طرفی گروپوں کو فروغ دینا جاری رکھنا چاہئے، کیونکہ ہم اپنے تمام ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرنے کے مواقع تلاش کرتے ہیں۔

 

اسی طرح، ہمیں جنوبی ایشیا میں، جو دنیا میں سب سے کم اقتصادی طور پر مربوط خطوں میں سے ایک ہے، کنیکٹوٹی کو فروغ دینے کی کوششوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔ امریکہ پہلے ہی سے اس بات پر غور کر رہا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے قومی منصوبوں کو مالی امداد دینے کے لئے ہم خطے میں کس طرح اپنے امدادی پروگراموں سے مدد کرسکتے ہیں۔ ہمیں علاقائی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو مالی تعاون دینے کے لئے بھارت اور کثیر جہت ترقیاتی بینکوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔

 

ایک آخری قابل ذکر ایریا ہند بحرالکاہل خطے میں انسانی امداد اور آفات کے موقع پر راحت رسانی ہے۔ کسی بھی آفت کا موثر طور پر سامنا کرنے کے لئے سول فوجی تال میل کی ضرورت ہوتی ہے جو منصوبہ بند، مشق شدہ، اور وسائل سے بھر پور ہوتی ہے۔ امریکہ اور بھارت اس کام کے لئے مختلف صلاحیتں رکھتے ہیں اور بحران کے وقت مل کر کام کرنے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

 

نتیجہ

 

مجموعی طور پر، ہمارے پاس امریکہ – بھارت شراکت داری کے لئے ایک بہت ہی اولوالعزم ایجنڈا ہے۔ آج کی پُرآشوب دنیا میں، شراکت داری کی طاقت ہی ایک مستقل امر ہے – اور ہمیشہ ہونی چاہئے۔ میں خلوص سے یقین کرتا ہوں کہ یہ ویسا ہی لازمی ہے جیسے بین الاقوامی معاملات میں رشتے ۔۔ مواقع جو ہمیں میسر ہیں اور ہند بحرالکاہل خطے پر اور اس سے آگے ہمارے امکانی اثر دونوں میں۔ بھارت اور امریکہ دونوں اپنی آزادی اور خودمختاری کو عزیز رکھتے ہیں، ہماری شراکت داری کی حقیقی قدر یہ ہے کہ یہ ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم عالمی معاملات پر مثبت اثر ڈال سکیں اور ہمارے عوام کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے ہم اپنے عظیم مقاصد حاصل کرسکیں۔ یقینا، ایسا کرنے کے لئے، ہمیں یہ کام دوستوں کی طرح احترام، اعتماد، قبولیت، بھروسے، اور لچک اور استقلال کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔

 

صدر ٹرمپ نے ہندوستان کو ایک ’’حقیقی دوست‘‘ قرار دیا ہے۔ اور وزیر اعظم مودی نے ہمارے دو ممالک کے ’’قدرتی اتحادی‘‘ ہونے کے وزیراعظم واجپئی کے ذکر کو دہرایا ہے۔ اب ان اصطلاحات کو مزید مواد اور مادہ دینا ہمارا کام ہے۔ ہمیں ایسی شراکت داری کی تعمیر کرنی چاہئے جو مضبوط اور پائیدار ہو اور لچکدار اور موافق بھی ہو۔ ہمیں دستیاب موقع کا فائدہ اٹھانا چاہئے تاکہ مستقبل کی نسلیں اس عہد کو ایسے وقت کے طور پر یاد کریں جب ہم نے امریکہ-بھارت کے تعلقات کو حقیقت میں تبدیل کیا۔

 

آپ کا بہت بہت شکریہ!