وزیر خارجہ ڈبلیو ریکس ٹلرسن کا عملے کے روبرو افتتاحی بیان، 2 فروری، 2017

ریکس ٹلرسن:تمام حاضرین کو خوش آمدید

ہم تاخیر کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اس برس دعائیہ ناشتے پرلوگوں کو قدرے طویل دعاکی ضرورت محسوس ہوئی (قہقہہ) مگر یقینی طور پر میں نے سبھی کو خوش آمدید کہا۔ اس قدر پرتپاک استقبالیے پر آپ کا شکریہ۔ یقینا یہاں موجودگی میرے لیے بے حد خوش کن ہے۔ میں یہاں آنے کے لیے بے تاب تھا اور مجھے اپنی اہلیہ رینڈا کا ساتھ میسر آنے پر بے حد خوشی ہے جو 30 برس سے زائد عرصہ سے میری شریک حیات ہیں۔ اس دوران وہ بے حد ثابت قدم رہیں اور میرا حوصلہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس تمام عرصے میں میری رہنمائی بھی کرتی رہی ہیں۔ اس سب کے لیے بہت شکریہ (تالیاں)

میں قائم مقام سیکرٹری ٹام شینن کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس پورے دورانیے میں شاندار کردار ادا کیا۔ ٹام آپ کا بے حد شکریہ (تالیاں) ٹام نے گزشتہ رات اوول آفس میں میری تقریب حلف برداری میں شرکت کر کے حقیقتاً ہماری عزت افزائی کی اور میں اُن کی وہاں موجودگی کو سراہتا ہوں۔

یقینا یہاں ہمارے محکمہ خارجہ کے ہیڈکوارٹر میں آنے والے عملے اور دنیا بھر میں اپنے شراکت کاروں سمیت آپ تمام لوگوں کی عزت افزائی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ سربراہ محکمہ خواہ کوئی بھی ہو آپ نے اپنی ذمہ داریاں درست طور سے انجام دینی ہیں۔ یہ بے حد اہم بات تھی۔ میں جانتا ہوں کہ سینیٹ کے تصدیقی عمل کے دوران آپ میں بہت سے لوگوں نے سفارت کاروں کی معاونت کی اور درحقیقت آپ میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے طور پر یہ کام انجام دیا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سینیٹ ہمیشہ کی طرح اسے سنجیدگی سے لیتی ہے، وہ پہلے جیسے ہی پرجوش اور پہلے جیسے ہی مفصل ہیں۔ بہرحا ل ہم یہاں موجود ہیں (قہقہے اور تالیاں)

آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ہمارے پاس اپنے اہداف، ترجیحات اور اپنے ادارے کے لیے سمت پر مزید تفصیل سے گفت و شنید کے بے شمار مواقع ہوں گے۔ مگر اس موقع پر میں محکمہ خارجہ کے مرد وخواتین کے لیے اپنے بے حد احترام کا واقعتاً اظہار کرنا چاہوں گا اور اس کے ساتھ آپ لوگوں سے چند اصول بھی بیان کروں گا کہ ہم سب نے مشترکہ مقصد کے تحت آگے بڑھنا ہے۔

اس محکمہ میں کام کرنے والوں کا شمار دنیا کے بہترین سرکاری اہلکاروں میں ہوتا ہے۔ آپ میں بہت سے لوگ بیرون ملک وطن کی خدمت کر چکے اور کر رہے ہیں۔ محکمہ خارجہ کے اہلکار محض پالیسی اور منصوبوں پر عملدرآمد کا کام ہی نہیں کرتے بلکہ آپ لوگ ہماری قوم اور ہمارے آدرش کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جب لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو گویا وہ امریکا کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

صبح سویرے اٹھتے ہی میرے ذہن میں جو پہلی بات آتی وہ یہ ہے کہ ”کیا ہمارے سبھی لوگ محفوظ ہیں؟“

محکمہ خارجہ ہمارے خاندان جیسا ہے جس میں کسی کی جائے ملازمت سے قطع نظر ہر فرد کا تحفظ میری ترجیح ہی نہیں بلکہ یہ میرے لیے بنیادی قدر کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ اس محکمے کی بنیادی قدر بن جائے گی(تالیاں)

اس سے یہاں امریکا میں محکمہ خارجہ کے لوگ اور بیرون ملک کام کرنے والے اس محکمے کے ادارے بشمول سول سروس، ملازمت خارجہ کے افسر اور خصوصی اہلکار، میزبان ملک کا مقامی عملہ اور تیسرے ملک کے شہری، تجربہ کار عملے کے زیرنگرانی کام کرنے والے اہلکار، ساتھی، معاونین اور عملدرآمد کے کام پر مامور لوگ اور سب سے بڑھ کر ان تمام لوگوں کے اہلخانہ مراد ہیں جو ناصرف وطن میں بلکہ بیرون وطن خدمات کے دوران بھی ہمیں سہارا دیتے ہیں۔

فارن سروس ہی محکمہ خارجہ کا واحد جزو نہیں ہے۔ محکمہ خارجہ میں سول سروس کا عملہ ہمارے مقاصد کے حصول میں ناگزیر کردار ادا کرتا ہے اور ان لوگوں کی نمایاں خدمات کے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اگرچہ عموماً ہم میڈیا کی نگاہ میں ہوتے ہیں مگر عام لوگوں کی نظروں سے دور رہ کر کام کرنے والوں کی اہمیت کم نہیں ہوجاتی۔ آپ لوگوں کی معنونیت، ذہانت اورموثر فیصلے ہمارے تمام کاموں کے لیے گویا اینٹ گارے کا کام کرتے ہیں۔ ہم سب آپ کی حسن کارکردگی کے محتاج ہیں اور میں جانتا ہوں کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

ایک بہت بڑا (تالیاں)  محکمہ خارجہ کے عملے کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج اور ہیجان خیز کام یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں تبدیل ہونے والے حالات کا سامنا کیسے کیا جائے۔ میں اس ضمن میں آپ تمام لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ یہاں اپنے ملک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے خود کو ہم آہنگ کرنے کے لیے بھی اپنی فطری اور ترقی یافتہ صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔

میں جانتا ہوں کہ یہ گرما گرم انتخابات تھے اور اس کے نتائج کی بابت ہم سب کی سوچ ایک جیسی نہیں ہے۔ ہم میں ہر شخص اپنے سیاسی نظریات کا مالک ہے مگر ہم اپنی ذاتی وابستگیوں کو ایک ٹیم کی حیثیت سے اپنے کام کی اہلیت پر حاوی ہونے نہیں دے سکتے۔ آئیے اس دور کے مطابق ایک دوسرے کو سمجھیں اور اپنی توانائیاں اپنے محکمے کے اہداف پرمرکوز کردیں۔ وزیر کی حیثیت سے میں محکمہ خارجہ کا ہنر اور وسائل موثرترین ممکنہ انداز میں بروئے کار لاؤں گا۔ اس سلسلے میں ممکنہ طور سے کچھ تبدیلیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ تبدیلی برائے تبدیلی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور میری کبھی ایسی سوچ نہیں رہی۔ مگر ہم غیر موثر روایات پر اچھے نتائج کو قربان نہیں کر سکتے۔میں اس بارے میں معلومات حاصل کروں گا کہ کون کون سے طریق کار میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور ہر ممکن طور سے مفید اور موثر انداز میں کام یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار اداکروں گا۔

ہمارے ملک یا محکمے کے حالات کچھ بھی ہوں ہمیں بہرصورت اپنے مقصد پر کاربند رہنا ہے۔ میں آپ کو یاد دہانی کراتا ہوں کہ ہماری ذمہ داریاں ہماری ذات یا ہماری نوکریوں سے کہیں بڑی ہیں۔ خارجہ معاملات میں اپنی قوم کی وفادارانہ نمائندگی ہمارا مقصد اور فرض ہے۔اگر ہم اپنے کام پر توجہ مرکوز کریں گے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ کو ذاتی نوعیت کی کامیابیاں اور پیشہ وارانہ اطمینان دلانے کے لیے کا م کروں گا۔ میں محکمہ خارجہ میں کام کرنے والے ہر فرد سے کہوں گا کہ ہمیں چند بنیادی اصول اختیار کرنا چاہئیں۔

اس حوالے سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ میں اس با ت پر یقین رکھتا ہوں کہ کوئی بھی ادارہ اُسی وقت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے جب اس کے تمام ارکان اپنے آپ کو جواب دہ سمجھتے ہیں۔ ڈاک کے کمرے سے لے کر میٹنگ روم تک ہر شخص کا اپنا کام ہے۔ میں جانتا ہوں کہ کوئی بھی شخص ہمیشہ بہترین کارکردگی نہیں دکھا پاتا اور میں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہوں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ہر شخص اپنا کام بہترین انداز میں انجام دینے کی کوشش کرے اور اپنے افعال اور فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرے۔ فٹ بال ٹیم ”نیو انگلینڈ پیٹریاٹس“ نے اپنے مرکز میں جابجا سائن بورڈ لگائے جن پر لکھا تھا ”اپنا کام کریں“ یہ پیغام بظاہر نہایت مختصر مگر گہری اہمیت کا حامل ہے۔ اگر ہم سب اپنا کام کریں اور اپنی کارکردگی پر جوابدہی کے لیے تیار ہوں تو ایک اکائی کی حیثیت میں بہتر طور سے کام کر سکتے ہیں اور یوں ہمارے لیے اپنے مقاصد کا حصول بھی آسان ہو جائے گا۔مجھے تسلیم کرنا چاہیے کہ پیٹریاٹس کو سالہا سال تک اس سے بے حد فائدہ ہوا (قہقہہ)

دوسری بات یہ کہ میں چاہتا ہوں ہم تمام لوگ ایک دوسرے سے مخلص رہیں۔ ہم ایک ہی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ہمارا مقصد ایک ہے۔ دیانت داری ہماری خارجہ پالیسی کو مضبوط بنائے گی اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ اپنے میل جول اور طرز عمل سے اس کا آغاز کریں گے۔

آخری بات یہ کہ ہم نے ایک دوسرے کااحترام کرنا ہے۔ کوئی شخص کسی کے لیے عدم احترام گوارا نہیں کرے گا۔ محکمہ خارجہ کے ملازم ہونے سے پہلے ہم انسان ہیں۔ آئیے ایک دوسرے کے لیے احترام کے جذبات میں اضافہ کریں خصوصاً اختلاف رائے کی صورت میں اس کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔میں بھی آپ سے اپنی توقعات اور مطالبات میں یکساں طور سے جوابدہ اور دیانت دار رہوں گا۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے بلائے جانے سے قبل میں نے سوچا تھا کہ چار دہائیوں تک کاروبارکے بعد میں اس موسم بہار میں ریٹائرمنٹ لے لوں گا (قہقہہ) رینڈا اور میں اپنے زرعی رقبے پر جانے اور پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت بتانے کے لیے تیار تھے۔ مگر جب میری صدر ٹرمپ کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی اور انہوں نے مجھے یہ کام سونپا تو رینڈا کہنے لگیں ”آپ نہیں جانتے مگر 41 برس تک آپ اسی کام کی تربیت لے رہے تھے“ (قہقہہ اور تالیاں) لہٰذا انہوں نے کہا کہ ”اپنے خوابوں کی تکمیل کے بجائے آپ سے یہ کام لیا جانا تھا“

تو ٹھیک ہے، آج میرا پہلا دن ہے، میں نے یہ کام شروع کر دیا ہے۔ ارے، میں نیا ہوں (تالیاں)

میں اس ادارے کی مہارت پر انحصار کروں گا۔ محکمہ خارجہ کے عملے میں 75000 سے زیادہ ارکان ہیں جن میں خارجہ اور سول سروس کا عملہ دونوں شامل ہیں۔ ان میں ہر ایک اس محکمے میں اوسطاً 11 برس بتا چکا ہے جبکہ میں نے ابھی یہاں 25منٹ گزارے ہیں (قہقہہ)

آپ کے پاس بہت ساعلم اور تجربہ ہے جس کا کہیں کوئی متبادل نہیں۔ آپ کی دانائی، آپ کے کام کی اخلاقیات اور حب الوطنی ہمیشہ کی طرح اہم ہیں۔ آپ کے وزیر کی حیثیت سے مجھے اپنی فیصلہ سازی میں آپ کی ان تمام خوبیوں سے کام لینے پر فخر ہو گا۔

ذاتی جوابدہی، دیانت داری اور ساتھیوں کے احترام سے متعلق اعلیٰ ترین اخلاقی اور پیشہ وارانہ معیار برقرار رکھنے میں میرا ساتھ دیں۔ بلاشبہ ہم کامیاب بھی رہیں گے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہم پرمشکل وقت بھی آئے گا۔ ہمیں اِن تمام حالات میں ایک ٹیم کے طور پر آگے بڑھتے رہنا ہے۔ ہمیں اس عمارت اور اس سے باہر اپنے افعال کو امریکیوں کے لیے قابل فخر بنانا ہے۔

اس برآمدے کی دیواروں پرفارن سروس کے اُن لوگوں کے نام کنندہ ہیں جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جان دے دی۔ ابراہم لنکن کے الفاظ میں ان لوگوں نے انتہا درجے وفاداری اور خلوص کا مظاہرہ کیا۔ یہ لوگ اپنی ذات سے بڑے مقصد کے لیے جان سے گئے۔ نئے دور میں داخل ہوتے وقت اپنے سے پہلے گزر جانے والے ان لوگوں کی قربانیوں کو خراج عقید ت پیش کرنا اوران کی میراث پرغور وفکر بے حد اہم ہے۔

آخر میں وزیرخارجہ کی حیثیت سے قومی خدمت کے عمل میں آپ تمام لوگوں کے ساتھ کام کرنا میری نہایت عزت افزائی ہے۔ لہٰذا اب میں ان تمام افراد کو اپنا خراج عقیدت پیش کروں گا جن کی یاد اس دیوار کنندہ ہے اور پھر مجھے آپ لوگوں کو فرداً فرداً سلام کرنا ہے۔ مجھے اس میں چند دن لگ سکتے ہیں (قہقہہ) مگر تمام تر خلوص کے ساتھ میں امید رکھتا ہوں کہ مجھے یہاں موجود ہر فرد سے ہاتھ ملانے کا موقع ملے گا۔

آپ لوگوں کا بے حد شکریہ (تالیاں)

]یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔[