وزیرخارجہ ٹلرسن کا دورہ سعودی عرب، قطر، پاکستان، بھارت اور سوئٹزرلینڈ

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن 20 تا 27 اکتوبر ریاض، دوحہ، اسلام آباد، نئی دہلی اور جنیوا کا دورہ کریں گے۔

ریاض میں وزیرخارجہ ٹلرسن سعودی عرب اور عراقی حکومتوں کے درمیان  رابطہ کونسل کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیرخارجہ یمن میں جنگ، خلیج میں جاری تنازع، ایران اور متعدد دیگر اہم علاقائی و باہمی امور پر تبادلہ خیال کے لئے متعدد سعودی رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے ۔

بعدازاں وزیرخارجہ ٹلرسن دوحہ جائیں گے جہاں وہ قطری رہنماؤں اور امریکی فوجی حکام سے ملیں گے۔ ان ملاقاتوں کے دوران وہ انسداد دہشت گردی کی مشترکہ کوششوں، خلیج میں جاری تنازع اور بشمول ایران و عراق دیگر علاقائی و باہمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اسکے بعد سکریٹری ٹلرسن وزیر خارجہ کی حیثیت سے جنوبی ایشیا کا پہلا دورہ کریں گے جہاں  وہ خطے کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی جامع حکمت عملی کی مزید توثیق کریں گے۔

وزیرخارجہ اسلام آباد میں اعلیٰ پاکستانی حکام سے مل کر ہمارے متسلسل مضبوط باہمی تعاون، جنوبی ایشیا بارے ہماری حکمت عملی کی کامیابی میں پاکستان کے اہم کردار اور دونوں ممالک میں معاشی تعلقات کو وسعت دینے کی بابت تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیرخارجہ اس مثبت بات چیت کو آگے بڑھائیں گے جو انہوں نےاور نائب صدر نےکچھ عرصہ قبل پاکستانی وزیراعظم عباسی سے کی تھی۔

نئی دہلی میں وزیرخارجہ اعلیٰ بھارتی  حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت کو مزید مضبوط بنانے اور ہندبحرالکاہل  خطے میں سلامتی اور خوشحالی کے سلسلے میں تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال ہو گا۔ وزیرخارجہ کا بھارت دورہ اس پُرعزم ایجنڈے کو آگے بڑھائے گا جس کا آغاز جون میں وزیراعظم مودی کے دورہ وائٹ ہاؤس کے موقع پر ان کے اور صدر ٹرمپ کے ذریعہ ہوا تھا۔

وزیرخارجہ جنیوا میں اقوام متحدہ  ہائی کمشنر برائے مہاجرین، عالمی تنظیم برائے مہاجرت اور ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی کے حکام سے ملاقاتیں کریں گے جن میں متعدد حالیہ عالمی انسانی بحرانوں پر بات چیت ہو گی۔

وزیرخارجہ ٹلرسن کے دورے کو ٹویٹر پر @StateDept کے ذریعے فالو کیجیے اور دورے کے حوالے سے تازہ ترین تصاویر حاصل کرنے کے لیے دفتر خارجہ کے Flicker اکاؤنٹ پر جائیے۔ https://blogs.state.gov/engage پر رابطہ رکھیے اور https://www.state.gov/secretary/2017travel/index.htm پر وزیرخارجہ کے تمام دوروں کی بابت آگاہ رہیے۔