افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں حکمت عملی پر صدر ٹرمپ کا بیان

صدر: آپ کا بے حد شکریہ۔ شکریہ، تشریف رکھیے۔

نائب صدر پنس، وزیرخارجہ ٹلرسن، کابینہ کے ارکان، جنرل ڈنفورڈ، نائب وزیر شینہن اور کرنل ڈوگن، خاص طور پر فورٹ مائر کے مردوخواتین اور اندرون و بیرون ملک امریکی فوج کے ہر رکن کا شکریہ۔

ہم سمندر میں المناک تصادم کے نتیجے میں زخمی اور لاپتہ ہونے والے اپنے بہادر سیلرز کے اہلخانہ کے لیے دعا کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہم تلاش اور بحالی کی کوششوں میں مصروف لوگوں کے لیے بھی دعاگو ہیں۔

آج شب یہاں مجھے افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لیے ہماری آئندہ حکمت عملی کا خاکہ پیش کرنا ہے۔ تاہم نئی حکمت عملی کی تفصیلات فراہم کرنے سے پہلے میں آج یہاں بیٹھے مسلح افواج کے ارکان، اپنی پوسٹوں پر تعینات اہلکاروں اور اپنے گھروں میں موجود تمام امریکیوں سے چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔

ہماری جمہوریہ کے آغاز سے ہی اس ملک نے ایک خاص نوع کے سورماؤں کو جنم دیا ہے جن کی بے غرضی، ہمت اور عزم کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

ہر نسل کے امریکی محب الوطنوں نے ہماری قوم اور ہماری آزادی کی خاطر میدان جنگ میں جان قربان کی۔ اپنی زندگی کے ذریعے ۔۔۔ اگرچہ ان کی زندگی مختصر رہی مگر اپنے کام کی بدولت وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

ہماری جمہوریہ کے تحفظ کے لیے لڑنے والوں کی بہادرانہ مثال پر عمل کرتے ہوئے ہم اتحاد، مضبوطی اور خدا کے سائے تلے ایک قوم کے طور پر یکجا رہنے کے لیے اپنے ملک کو درکار تحریک حاصل کر سکتے ہیں۔ ہماری افواج کے مردوخواتین ایک ٹیم کے طور پر کام کرتے ہیں جو ایک ہی فرض اور مقصد کے مشترکہ احساس کے حامل ہیں۔

یہ لوگ بالکل کامل ربط سے مشترکہ خدمت اور اکٹھے قربانی دینے کے لیے نسل، قومیت، مذہب اور رنگ کی ہر تفریق سے بلند ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افواج کے تمام ارکان ایک دوسرے کے بھائی بہنیں ہیں۔ یہ سبھی ایک ہی خاندان کے رکن ہیں جسے ہم ‘امریکی خاندان’ کہتے ہیں۔ انہوں نے ایک ہی حلف اٹھایا ہے، وہ ایک ہی جھنڈے کے لیے لڑتے ہیں اور ایک ہی قانون کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ لوگ مشترکہ مقصد، باہمی اعتماد اور ہماری قوم نیز ایک دوسرے سے بے غرض وفاداری کے جذبے سے جڑے ہیں۔

سپاہی یہ بات سمجھتا ہے جسے ہم بحیثیت قوم اکثر بھول جاتے ہیں کہ ہم میں کسی ایک فرد کو لگنے والا زخم گویا ہم سب کو لگتا ہے۔ جب امریکہ کا ایک حصہ زخمی ہوتا ہے تو گویا ہم سب زخمی ہوتے ہیں۔ جب ایک شہری کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو ہم سب اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

اپنی قوم سے وفاداری ایک دوسرے سے وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔ امریکہ کے لیے پیار اس کے تمام لوگوں کے لیے پیار کا متقاضی ہے۔ جب ہم اپنے دل حب الوطنی کے لیے وا کرتے ہیں تو پھر ناانصافی، تعصب اور عدم رواداری کے لیے کوئی جگہ نہیں رہتی۔

ہم جن نوجوان مردوخواتین کو بیرون ملک جنگ لڑنے کے لیے بھیجتے ہیں وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جب وہ وطن واپس آئیں تو یہاں درون خانہ کوئی جنگ نہ ہو۔ اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ امن سے نہیں رہ سکتے تو پھر دنیا کے لیے بھی امن کی قوت ثابت نہیں ہو سکتے۔

ہم بیرون ملک اپنے دشمنوں کو شکست دینے کے لیے اپنے بہادر ترین لوگوں کو بھیجتے ہیں، اور ہمیشہ جیت ہی ہمارا مقدر بنے گی، مگر اس کے لیے ہمیں اپنے اندرونی اختلافات دور کرنے کی ہمت پیدا کرنا ہو گی۔ آئیے ہم اپنے لیے جنگ لڑنے والے مردوخواتین سے ایک سادہ سا وعدہ کریں کہ جب وہ جنگ سے واپس آئیں گے تو خود کو ایک ایسے ملک میں پائیں گے جہاں محبت اور وفاداری کے ایسے مقدس رشتوں کی تجدید ملے گی جو ہمیں باہم متحد رکھتے ہیں۔

امریکی فوج اور دنیا بھر میں ہمارے بہت سے اتحادیوں کی چوکسی اور مہارت کی بدولت ہماری سرزمین پر 11 ستمبر جیسے پیمانے کی دہشت کا اعادہ نہیں ہوا۔ مگر ہمیں بہرصورت یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی جس پر بات کرنے کے لیے آج میں یہاں موجود ہوں اور وہ یہ کہ 11 ستمبر کے حملوں اور خون خرابے کی غیرمعمولی قربانی سے قریباً 16 برس بعد امریکی عوام فتح کے بغیر لڑی جا رہی   جنگ سے تھک چکے ہیں۔ اس کی افغان جنگ سے زیادہ بہتر وضاحت کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ یہ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے جو 17 برس سے جاری ہے۔

امریکی عوام کی طرح مجھے بھی مایوسی ہے۔ میں اس خارجہ پالیسی پر بھی ان کی مایوسی میں شریک ہوں جس کے ذریعے سلامتی سے متعلق ہمارے مفادات کے حصول کے بجائے دوسرے ممالک کی اپنے تصور کے مطابق تعمیر نو کے لیے بے تحاشہ وقت، توانائی، مالی وسائل اور سب سے بڑھ کر زندگیاں خرچ کی گئیں۔

یہی وجہ ہے کہ عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد میں نے وزیردفاع ماٹس اور قومی سلامتی سے متعلق اپنی ٹیم کو افغانستان اور جنوبی ایشیا میں تمام تزویراتی امکانات کے جامع جائزے کا حکم دیا۔

جبلی طور پر میں اس حوالے سے سابقہ پالیسیوں سے دستبردار ہونا چاہتا تھا۔ دیکھا جائے تو میں ہمیشہ اپنی جبلت کی پیروی کرتا ہوں۔ مگر میں نے زندگی بھر یہی سنا کہ جب آپ اوول آفس میں میز کے پیچھےبیٹھتے ہیں یعنی جب آپ امریکہ کے صدر بن جاتے ہیں تو فیصلے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں نے نہایت تفصیل اور ہر قابل ادراک زاویے سے افغانستان کی صورتحال کا مطالعہ کیا۔ کئی ماہ تک بہت سی ملاقاتوں کے بعد ہم نے اپنی حکمت عملی مکمل کرنے کے لیے کابینہ اور جرنیلوں کے ساتھ گزشتہ جمعے کو کیمپ ڈیوڈ میں حتمی ملاقات کی۔ میں افغانستان میں امریکہ کے اہم ترین مفادات کے حوالے سے تین بنیادی نتائج پر پہنچا ہوں۔

پہلا یہ کہ ہماری قوم کو بہرصورت اس جنگ کا باوقار اور پائیدار نتیجہ ملنا چاہیے جو ہماری بے پایاں قربانیوں خصوصاً جانی قربانیوں کے شایان شان ہو۔ ہماری قوم کے لیے جنگی خدمات انجام دینے والے مردوخواتین کے لیے فتح کا منصوبہ ہونا چاہیے۔ وہ جنگ لڑنے اور فتحیاب ہونے کے لیے درکار سازوسامان اور اپنے حاصل کئے گئے اعتماد کے مستحق ہیں۔

دوسرایہ کہ افغانستان سے جلد از جلد انخلا کے نتائج کی پیش گوئی بھی ممکن ہے اور اس کے ساتھ یہ  ناقابلِ قبول بھی  ہے۔ نائن الیون کا سانحہ ہماری تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ تھا جس کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور افغانستان سے ہی اس تمام  کارروائی کی نگرانی بھی کی گئی کیونکہ اس وقت افغانستان میں ایک ایسی حکومت برسرِاقتدار تھی جس نے دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کے علاوہ انہیں پناہ گاہیں بھی فراہم کی تھیں۔ افغانستان سے فوری انخلا کے نتیجے میں دہشت گردوں کے لیے سازگار حالات جنم لیں گے  جن سے دہشت گرد گروہ داعش اور القاعدہ فوری فائدہ اٹھائیں گے جیسا کہ گیارہ ستمبر سے قبل ہوا تھا۔

جیسا کہ آپ آگاہ ہیں، 2011ء میں امریکی فورسز کا عراق سے جلد اور غلط طور پر انخلا عمل میں آیا جس کے باعث دہشت گردوں نے کڑی تگ و دو سے  حاصل کی گئی کامیابیوں کے ثمرات زائل کر دیے۔ ہمارے فوجی اہلکاروں نے ان شہروں کا مشاہدہ کیا جنہیں دہشت گردوں سے آزادی دلانے کے لیے وہ جدوجہد کرتے رہے تھے اور بالآخر کامیاب بھی ہو گئے تھے لیکن بعدازاں ان شہروں پر دہشت گرد گروہ داعش کا قبضہ ہو گیا۔ جلد بازی میں انخلا کے باعث داعش کو محفوظ پناہ گاہیں قائم کرنے ، پھلنے پھولنے، جنگجو بھرتی  کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کا موقع ملا۔ ہم اپنے رہنماؤں کی جانب سے عراق میں کی گئی غلطیاں دہرانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

تیسرا اور آخری؛ میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہمیں افغانستان اور وسیع تر علاقے میں انتہائی سنگین نوعیت کے سیکورٹی مسائل کا سامناہے۔ اس وقت امریکہ  کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے 20 غیر ملکی جنگجو گروہ افغانستان اور پاکستان میں سرگرم ہیں، یہ دنیا کے کسی بھی خطے میں فعال دہشت گرد گروہوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

پاکستان کی بات کی جائے تو یہ اکثر و بیشتر دہشت گرد عناصر کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے۔ یہ خطرہ اس لیے بھی بڑا  ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی جوہری طاقتیں ہیں جن کے پریشان کن تعلقات کا شورش میں تبدیل ہونے کا خطرہ رہتا ہے اور ایسا ہونا بعید از قیاس بھی نہیں۔

کوئی اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ ہمیں افغانستان اور جنوبی ایشیاء میں پریشان کن حالات ورثے میں ملے ہیں  لیکن اب ماضی میں واپس جانے اور مختلف یا بہتر فیصلے کرنا ممکن نہیں۔  میں نے جب صدارت سنبھالی  تو میرا سامنا نہایت منفی اور پیچیدہ حالات سے ہوا لیکن میں مکمل طور سے  آگاہ تھا کہ مجھے ان انتہائی اہم اور پیچیدہ مسائل سے کیسے نمٹنا  ہے۔ لیکن کسی بھی طور پر یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ میں مسائل حل کر لینے والا  ہوں اور آخر میں فتح ہماری ہی ہو گی۔

ہم نے اس وقت دنیا کو درپیش مسائل بھی حل کرنا  ہیں،ہمیں  وہ خطرات جن کا ہم اس وقت سامنا کررہے ہیں اور موجودہ عہد کے تمام مسائل حل کرنا  ہیں اور جلد از جلد انخلا کے انتہائی قابلِ ادراک مضمرات سے بھی نبردآزما ہونا ہے۔

دہشت گرد گروہ کسی طور بھی معصوم مرد و خواتین اور بچوں کے قتلِ عام سے باز نہیں آئیں گے؛ یہ سمجھنے کے لئے   گزشتہ ہفتے بارسلونا میں ہونے والا تباہ کن دہشت گرد حملہ ایک اہم مثال ہے ۔ آپ نے بذات خود اس پریشان کن صورتِ حال کا مشاہدہ کیا ہے۔

جیسا کہ میں نے تین ماہ قبل سعودی عرب میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ امریکا اور ہمارے اتحادی اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے پرعزم ہیں؛ ہم نے ان کے مالی وسائل پر روک لگائی ہے اور ہم ان کے شیطانی نظریات کو بے نقاب کررہے ہیں۔

معصوموں کا قتل کرنے والے لوگوں کو اس زندگی  اور نہ ہی اگلی زندگی میں کوئی اعلیٰ مرتبہ ملے گا۔ وہ دھوکہ باز ہیں، ان کی حیثیت  جرائم پیشہ عناصر اور  قاتلوں کی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ یہ عناصر شکست خوردہ ہیں۔ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کرانہیں پسپا ہونے پر مجبور کردیں گے، ان جماعتوں میں ہونے والی بھرتیوں میں کمی لائیں گے اور انہیں  سرحد پار کرنے نہیں دیں گے اور ہاں، ہم انہیں شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ہم انہیں باآسانی شکست دیں گے۔

پاکستان اور افغانستان میں امریکی مفادات واضح ہیں۔ ہمیں لازمی طورپر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو قائم ہونے سے روکنا ہے جن کےذریعہ دہشت گرد امریکا کے لیے پریشانی پیدا کرنے کے لائق ہوجاتے ہیں اور ہم نے ہر صورت میں یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ جوہری ہتھیار اور مواد دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگے جو ہمارے یا دنیا بھر میں کسی کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں۔

لیکن اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہمیں ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرور ت ہوگی۔ افغانستان اور جنوبی ایشیاء میں امریکی حکمتِ عملی کا جائزہ لینے کے بعداس میں درج ذیل ڈرامائی تبدیلیاں آئیں گی:

ہماری نئی حکمتِ عملی کا ایک بنیادی جزو یہ ہے کہ ہم وقت کا تعین کرنے کے بجائے اب حالات کے پیشِ نظر فیصلے کریں گے۔ میں یہ بارہا کہہ چکا ہوں ۔ میں نے یہ بھی بارہاکہا ہے کہ یہ امریکا کے لیے انتہائی غیرمفید ہے کہ عسکری کارروائی کے آغاز یا اختتام کی تاریخوں کا پیشگی اعلان کردیا جائے۔ ہم فوجی دستوں کی تعداد کے بارے میں بات کریں گے اور نہ ہی مزید فوجی سرگرمیوں کے منصوبوں کو زیربحث لائیں گے۔

آج کے بعد سے میدان جنگ کے حالات ہماری حکمت عملی کا اہم جزو ہوں گے اور ہم غیرمنطقی ٹائم ٹیبل نہیں بنائیں گے۔ امریکہ کے دشمنوں کو ہمارے منصوبوں کا علم نہیں ہونا چاہئے اور انہیں یہ یقین نہیں ہونا چاہئے کہ امریکہ کب باہر نکلے گا۔میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہم کب حملہ کرنے جا رہے ہیں لیکن ہم حملہ کریں گے۔

ہماری نئی حکمتِ عملی کا دوسرا اہم جزو امریکا کے مختلف طاقت ور اداروں کا باہمی  تعاون ہے جس میں سفارتی، معاشی اورعسکری شعبۂ جات شامل ہیں تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

کسی روز  مؤثر فوجی کارروائی کے ذریعے غالباًافغان مسئلے کا  سیاسی حل ممکن ہو جائے گا، اس  میں افغانستان کے طالبان بھی شامل ہیں لیکن کوئی آگاہ نہیں ہے کہ آیا یا ایسا کب ہوگا۔ امریکا افغان حکومت کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا اور امریکی فوج کے لیے بھی یہ تعاون جاری رہے گاکیونکہ وہ  میدانِ جنگ میں طالبان سے برسرِپیکار ہے۔

آخر میں یہ افغانستان کے عوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا تعین کریں، اپنے سماج کو منتظم کریں اور طویل المدتی تناظر میں امن کا ہدف حاصل کریں۔ امریکا افغانستان کا اتحادی اور دوست ہے لیکن ہم افغان عوام کو یہ ہدایات نہیں دیں گے کہ وہ اپنے پیچیدہ سماج کو کس طرح منتظم کریں۔ ہم دوبارہ قوم سازی نہیں کر رہے۔ ہم دہشت گردوں کا قلع قمع کررہے ہیں۔

ہماری نئی حکمت عملی کا ایک نہایت اہم پہلو پاکستان کے حوالے سے پالیسی کی تبدیلی ہے اور یہ کہ پاکستان سے کس طرح پیش آیا جائے۔ ہم پاکستان میں دہشت گردوں، طالبان اور ایسے دیگر گروہوں کے محفوظ ٹھکانوں کے بارے میں مزید خاموش نہیں رہ سکتے جو خطے اور دنیا بھر کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان افغانستان میں ہمارے ساتھ شراکت داری کر کے بہت سی کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے ۔ دوسری صورت میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کو تعاون فراہم کرنے کی صورت میں اسے  بہت زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماضی میں پاکستان ہمارا  قابلِ قدر اتحادی رہا ہے۔ ہماری افواج مشترکہ دشمن کے خلاف ایک ساتھ جنگ لڑچکی ہیں۔ پاکستانی عوام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے باعث بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہم  پاکستان کے اس نمایاں کردار اور اس کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔

لیکن پاکستان نے ایسی تنظیموں کو پناہ بھی دے رکھی ہے جو ہر دوسرے دن ہمارے لوگوں کا قتل کرتی ہیں۔ ہم پاکستان کو اربوں ڈالرکی امداد بھی دے رہے ہیں لیکن اس کے  باوجود وہ ان دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کر رہا ہے جن سے ہم اس وقت نبرد آزما ہیں۔ لیکن اس ساری صورتِ حال کو اب تبدیل ہونا ہے اور یہ حالات فوری طور پہ تبدیل ہوں گے۔ کوئی شراکت داری اس وقت تک کارآمد نہیں ہوتی جب تک آپ ان عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کو پناہ دیتے رہیں گے جو امریکی فوجی اہلکاروں اور حکام کو ہدف بنا رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک فیصلہ کن وقت ہے کہ وہ خطے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرے۔

جنوبی ایشیاء کے حوالے سے امریکا کی حکمتِ عملی کا ایک اور اہم جزو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ اور سلامتی و معاشی تناظر میں امریکا کے اہم ترین اتحادی بھارت کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ہم بھارت کی افغانستان میں امن وامان کے لیے انجام دی جانے والے نہایت اہم سرگرمیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن بھارت امریکا کے ساتھ اربوں ڈالرز کی تجارت بھی کر رہا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ افغانستان میں معاشی تعاون اور ترقی کے منصوبوں میں ہمارے ساتھ مزید تعاون کرے۔ ہم جنوبی ایشیاء اور انڈو پیسیفک خطے  میں امن و امان اور سکیورٹی کے لیے اپنے مشترکہ اہداف کے تناظرمیں آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

آخر میں میری انتظامیہ آپ کواور امریکی عوام کے بہادر محافظوں کو یہ یقین دہانی کرائے گی کہ ان کے پاس وہ تمام ضروری ساز و سامان اور ضابطےموجود ہوں جن کی بدولت  یہ حکمتِ عملی کامیابی سے ہمکنار ہو سکے  اور تمام تر کام مؤثرانداز میں اور  جلد از جلد مکمل ہو جائے۔

میں پہلے ہی جنگی فائٹروں پر عائد وہ پابندیاں ختم کر چکا ہوں جو گزشتہ انتظامیہ نے عائد کی تھیں جس کے باعث وزیردفاع اور میدان جنگِ میں مصروفِ عمل ہمارے کمانڈرفعال انداز سے دشمن کے خلاف جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہو پائے تھے۔ واشنگٹن میں محدود سطح پر کیے جانے والے بندوبست سے جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں۔ یہ میدانِ جنگ میں جیتی جاتی ہیں جس کا انحصار میدانِ جنگ میں مصروفِ عمل کمانڈروں اور اگلی صفوں کے سپاہیوں کی جانب سے بروقت فیصلوں اور مہارت پر ہے اور اس حوالے سے انہیں  مکمل طور پر بااختیار ہونا چاہیے  اور ان کا یہ واضح ہدف ہو کہ انہوں نے دشمن کو شکست دینا ہے۔

یہی سبب ہیکہ ہم پورے افغانستان میں تشدد اور بے چینی پیدا کرنے والےدہشت گردوں اور جرائم پیشہ گروہوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی مسلح افواج کا دائرہ اختیار بھی بڑھائیں گے ۔ ان قاتلوں کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ان کے پاس اب چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور کوئی مقام ایسا نہیں ہے جہاں امریکا کارروائی نہ کرسکتا ہو۔ کارروائی برق رفتاری اور پوری طاقت کے ساتھ کی جائے گی۔

جوں ہی ہم نے میدانِ جنگ میں امریکی فوج پرعائد پابندیاں ختم کر دی ہیں اور اس کا دائرہ اختیار بڑھا دیا ہے؛ ہم  داعش کو شکست دینے اور عراق میں موصل کو آزاد کرانے کی مہم میں ڈرامائی نتائج ہمارے سامنے آئےہیں ۔

اپنی حلف برداری کے بعد سےہی ہم نے اس سلسلے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ہم ان گروہوں کے خلاف نہ صرف مزید پابندیاں عائد کریں گے بلکہ ان کے معاشی ذرائع اور غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کریں گے تاکہ ان کی دہشت گردی برآمد کرنے کی اہلیت کو ختم کیا جاسکے۔ امریکا جب اپنی فوج کو جنگ میں بھیجے  تو ہم لازمی طور پہ انہیں یہ یقین دہانی کرائیں  کہ ان کے پاس ہر وہ ہتھیار ہو جن کے باعث وہ برق رفتاری کے ساتھ بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے کے اہل ہو جائیں۔

ہمارے فوجی دستے فتح حاصل کرنے کے لیے لڑیں گے۔ ہم یہ جنگ کامیابی حاصل کرنے کے لیے لڑیں گے۔ اب سے کامیابی کی ایک واضح تعریف ہو گی جن میں دشمنوں کو ہدف بنانا، داعش اور القاعدہ کے خلاف کارروائیاں کرنے کے علاوہ طالبان کو افغانستان پر دوبارہ اقتدارسنبھالنے اور امریکا کے خلاف امکانی  دہشت گرد حملے ہونے سے قبل انہیں روکنا شامل ہے۔

ہم اپنے نیٹو اور عالمی اتحادیوں سے کہیں گے کہ وہ ہماری اس حکمتِ عملی کے تحت اضافی فوجی دستے بھیجیں اور امریکا کی طرح امداد بڑھائیں۔ ہم پُراعتماد ہیں کہ وہ ایسا کریں گے۔ میں نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ واضح کر دیا تھا کہ ہمارے اتحادی اور شراکت دار مشترکہ دفاع کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ امداد دیں اور انہوں نے ایسا ہی کیا ہے۔

اس ساری جدوجہد میں افغانستان کے غیور عوام اور ان کی بہادر مسلح افواج کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ افغانستان کے وزیراعظم نے  وعدہ کیا ہے کہ ہم معاشی ترقی کریں گے  تاکہ  جنگ کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

افغانستان ان دشمنوں کے خلاف اپنے ملک کا دفاع کر رہا ہے جو ہمارے لیے بھی ایک نمایاں خطرہ ہیں۔ افغان سکیورٹی فورسز کے طاقت ور ہونے سے افغان شہریوں میں احساسِ تحفظ پیدا ہوگا اور وہ قوم سازی کے عمل میں شریک ہوں گے اوراپنے مستقبل کی راہ متعین کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیابی حاصل کریں۔

لیکن ہم امریکی فوج کو دوردراز علاقوں میں جمہوری عمل مضبوط بنانے کے لیے استعمال نہیں کریں گے یا یہ کوشش نہیں کریں گے کہ ان ممالک کی تعمیرِ نو کی جائے۔ وہ دن قصۂ پارینہ بن چکے۔ اس کے بجائے ہم اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ  مل کر کام کریں گے۔ ہم دوسروں سے یہ نہیں کہہ رہے کہ وہ اپنا طرزِ زندگی تبدیل کرلیں لیکن ان مشترکہ اہداف کی جانب آگے بڑھیں گے جن کے باعث ہمارے بچے بہتر اور محفوظ زندگی بسر کرسکیں۔ اصولوں پر مبنی یہ حقیقت پسندی آگے بڑھنے کے لیے ہمارے فیصلوں کی رہنمائی میں معاون ثابت ہوگی۔

صرف عسکری طاقت کے زور پر افغانستان میں قیامِ امن ممکن نہیں ہوگا اور نہ ہی اس ملک میں ابھرنے والے دہشت گردی کے خطرے پر قابو پایا جا سکے گا۔ لیکن سیاسی عمل کے لیے حالات پیدا کرنے کے مقصد سے تشکیل دی گئی حکمتِ عملی طویل المدتی تناظر میں امن و امان کے قیام کے لیے نہایت اہم ہے۔

امریکا افغان حکومت کے ساتھ کام جاری رکھے گا تاوقتیکہ ہم دوسری جانب سے بھی جوش و خروش اور پیشرفت ہوتی نہیں دیکھ لیتے۔ تاہم، ہمارا عزم محدود نہیں ہے اور ہمارا تعاونن ’بلینک چیک‘ بھی نہیں ہے۔ افغانستان کو لازمی طور پر اپنے حصے کا عسکری، سیاسی اور معاشی خرچ برداشت کرنا ہے۔ امریکی حکام حقیقی اصلاحات، حقیقی ترقی اور حقیقی نتائج کے حصول کی امید کر رہے ہیں۔ ہمارا صبر لامحدود نہیں ہے۔ ہم اپنی آنکھیں کھلی رکھیں گے۔

20 جنوری کو اٹھائے گئے حلف کے مطابق میں امریکی شہریوں کی زندگیوں اور ان کے مفادات کا تحفظ کروں گا۔ اس کوشش میں ہم کسی بھی ایسے ملک کے ساتھ مشترکہ ہدف قائم کریں گے جو اس عالمی خطرے میں ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا اور ہمارے ساتھ مل کر لڑے گا۔ دہشت گرد محتاط ہیں۔ امریکا شکست تسلیم نہیں کرے گا تاوقتیکہ آپ اسے شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوجاتے۔

میرے دور صدارت میں ہماری فوج پرمزید اربوں ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اور جوہری ہتھیاروں اور میزائل پروگراموں کے لیے بھی بڑے پیمانے پر فنڈمختص کیے گئے ہیں۔

ہم نے ہر دور میں اس وقت کے شیطان کو شکست دی ہے اور ہم ہمیشہ کامیاب رہے ہیں۔ ہم کامیاب اس لیے رہے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں اور ہم کس لیے لڑ رہے ہیں۔

اس وقت ہم جہاں کھڑے ہیں یہاں  حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہزاروں عظیم امریکی آرلنگٹن کی اس آخری آرام گاہ میں مدفون ہیں۔ زمین کے کسی بھی دوسرے مقام سے زیادہ یہ میدان جرأت، قربانیوں اور محبت کا احساس دلاتا ہے۔

11ستمبر 2001ء کے بعد افغانستان میں لڑنے اور جان کی قربانی دینے والے بہت سے لوگوں  کو نائن الیون  کے بعد بھرتی کیا گیا تھا۔ انہوں نے ایک سادہ سی وجہ سے رضاکارانہ طورپر خدمات انجام دیں۔ وہ امریکا سے محبت کرتے تھے اور وہ اس کا تحفظ کرنے کے لیے پرعزم تھے۔

ہم نے اب لازمی طور پر ان وجوہات کی نشاندہی کرنا  ہے جن کے باعث انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ہم نے امریکا کو بیرونی دشمنوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے لازمی طور پر متحد ہونا ہے۔ ہم نے ملک میں شہریوں کے درمیان اعتماد کو بحال کرنا ہے اور ہم نے وہ نتائج حاصل کرنے ہیں جس کے لیے بہت سے لوگوں  نے قربانیاں دی ہیں۔

ہمارے اقدامات اور آنے والے مہینوں میں یہ سب لوگ جان دینے والے ہر سورما، کسی پیارے کو کھونے والے ہر خاندان اور ہماری عظیم قوم کے دفاع میں خون بہانے والے ہر زخمی جنگجو کی قربانی کی توقیر کریں گے۔ اپنے عزم کی بدولت ہم یہ امر یقینی بنائیں گے کہ آپ کی خدمات اور آپ کے اہلخانہ کی بدولت ہمارے دشمنوں کو شکست ہو گی اور امن کا قیام ممکن ہو گا۔

ہم اپنے قلوب میں طاقت، ارواح میں ہمت اور آپ میں ہر ایک پر دائمی فخر کے ساتھ فتح کی جانب بڑھیں گے۔

شکریہ۔ خدا ہماری افواج پر رحمت کرے اور خدا امریکہ پر مہربان ہو۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ شکریہ (تالیاں)

# # #

(یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔)