امریکہ کے نائب صدر

Vice President Mike Penceمائیکل آر پینس 7 جون، 1959 کو ریاست انڈیانا کے شہر کولمبس میں ایڈورڈ اور نینسی پینس کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ چھ بہن بھائی تھے۔ ایک نوجوان کی حیثیت سے وہ اپنے امریکی خواب کی تعبیر پانے والوں کی اولین صفوں میں شامل رہے۔ جب ان کے دادا 17 برس کی عمر میں  ترکِ وطن کر کے امریکہ پہنچے تو ان کا خاندان امریکہ کے وسطی مغرب میں آباد ہوا۔ مستقبل کے اس نائب صدر نے اپنی والدہ اور والد کو ہر وہ چیز بناتے ہوئے دیکھا جو زندگی میں اہم ہوتی ہے — یعنی ایک خاندان، ایک کاروبار، اور نیک نامی۔ ان کے والد نے انڈیانا کے اس چھوٹے سے قصبے میں عام ضرورت کی اشیاء کا ایک سٹور کامیابی سے چلایا۔ ان کی پرورش ان کی والدہ اور والد نے اپنے قدموں میں بیٹھا کر، زندگی میں سخت محنت، یقینِ محکم اور گھرانے کی اہمیت پر یقین رکھتے ہوئے کی۔

1981ء میں، نائب صدر پینس ہینوور کالج میں داخل ہوئے جہاں سے انھوں نے تاریخ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ اس کالج میں تعلیم کے دوران انھوں نے اپنے عیسائی مذہب کی تجدید کی جو آج اُن کی زندگی میں ایک مضبوط قوت کی حیثیت سے کار فرما ہے۔ بعد میں وہ انڈیانا یونیورسٹی کے قانون کے سکول میں داخل ہو گئے جہاں وہ اپنی شریک حیات، کیرن سے ملے۔

گریجوایشن کے بعد، نائب صدر پینس نے وکالت شروع کی، انڈیانا پالیسی ریویو فاؤنڈیشن کے سربراہ کے طور پرکام  کیا، اور دا مائیک پینس شو کے نام سے مختلف سٹیشنوں پر چلنے والے ایک ریڈیو شو کی اور انڈیانا میں عوامی معاملات سے متعلق ایک ہفتہ وار ٹیلیویژن پروگرام کی میزبانی کی۔ اسی زمانے میں وہ تین بچوں، مائیکل، شارلٹ اور آڈرے کے والد بنے۔

ریاست انڈیانا کے "ہُوزر” کہلانے والے اچھے اور محنتی لوگوں کے درمیان پلنے بڑھنے والے، نائب صدر پینس کو ہمیشہ یہ احساس رہا کہ انہیں اِس ریاست اور اس ملک کے احسانات کا بدلہ چکانا ہے جس نے انہیں اتنا کچھ  دیا ہے۔ 2000ء  میں انھوں نے کانگریس کی مقامی نشست حاصل کرنے کے لیے کامیاب کوشش کی اور 40 سال کی عمر میں  امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے۔

مشرقی-وسطی انڈیانا کے لوگوں نے نائب صدر پینس کو کانگریس میں اپنی نمائندگی کرنے کے لیے چھ بار منتخب کیا۔ کانگریس میں انھوں نے محدود حکومت، مالیاتی ذمہ داری، اقتصادی ترقی، تعلیمی مواقع اور امریکی آئین کے چمپیئن کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے ساتھیوں نے جلد ہی ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا ادراک کر لیا اور انہیں متفقہ طور پر ایوانِ نمائندگان کی ریپبلیکن سٹڈی کمیٹی اور ایوانِ نمائندگان کی ریپبلیکن کانفرنس کا چیئرمین منتخب کر لیا۔ اس حیثیت میں، انھوں نے حکومتی حجم کو کم کرنے اور اسے زیادہ موئثر بنانے، اخراجات کم کرنے اور اختیارات کو ریاستی اور مقامی حکومتوں کو واپس لوٹانے میں مدد کی۔

2013ء میں، نائب صدر پینس نے ملک کے دارالحکومت کو اُس وقت خیرباد کہا جب ریاست انڈیانا کے عوام نے انہیں ریاست کا 50واں گورنر منتخب کیا۔ وہ ریاست انڈیانا کے ایوان میں بھی محدود حکومت اور کم ٹیکسوں کا فلسفہ اپنے ساتھ لے کر آئے۔ گورنر کی حیثیت سے انھوں نے ریاست انڈیانا کی تاریخ میں انکم ٹیکس میں سب سے زیادہ کمی کا قانون بنایا جس کے نتیجے میں انفرادی انکم ٹیکس کی شرحیں اور کاروباری جائیداد کا ٹیکس اور کارپوریٹ انکم ٹیکس کم ہوئے اور ریاست کی کاروباری مسابقت میں مضبوطی پیدا کرنے اور نئی سرمایہ کاری اور اچھی تنخواہوں والی ملازمتوں کو پُر کشش بنانے میں مدد ملی۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر ان کی انتھک  توجہ کی بدولت، ان کے عہدے کی مدت کے چار برسوں کے دوران ریاست میں بے روزگاری کی شرح گھٹ کر نصف رہ گئی۔ ان کے عہدے کی مدت کے خاتمے پر، ریاست انڈیانا میں باروزگار لوگوں کی تعداد ریاست کی 200 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ تھی۔

انڈیانا کے گورنر کی حیثیت سے، نائب صدر پینس نے سکولوں کو دی جانے والی رقومات میں اضافہ کیا، سکولوں کے انتخاب میں وسعت پیدا کی، اور انڈیانا کی تاریخ میں پہلی بار ریاست کے فنڈ سے چلنے والا "پری کے” یعنی چھوٹے بچوں کے لیے سکولوں کا پروگرام شروع کیا۔ انھوں نے ہر ہائی سکول میں پیشہ ورانہ اور ٹیکنیکل تعلیم کو ترجیحی حیثیت دی۔ انڈیانا کو امریکہ کا چوراہا کہا جاتا ہے۔ نائب صدر پینس کی قیادت میں  ریاست بھر میں سڑکوں اور پُلوں پر 80 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی۔ ٹیکسوں میں ریکارڈ کمی اور سڑکوں اور سکولوں پر نئی سرمایہ کاریوں کے باوجود، ریاست نے  مالی اعتبار سے ذمہ داری کا ثبوت دیا کیوں کہ نائب صدر نے انڈیانا جنرل اسمبلی کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے صحیح معنوں میں دو متوازن بجٹ منظور کیے جن کی بدولت ریاست میں سرمائے کے فاضل ذخائر وجود میں آئے۔ AAA  یعنی امریکہ میں گاڑیوں کی ایسوسی ایشن نے ریاست کو ایسی ریٹنگ دیں جو پوری ملک کے لیے قابل رشک تھیں۔

ریاست انڈیانا کی کامیابیوں کی داستان، نائب صدر کا قانون سازی اور انتظامیہ کے تجربے کا ریکارڈ، اور ان کی مضبوط خاندانی اقدار، وہ عوامل تھے جن کی بنا پر صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخاب میں مائک پینس کو جولائی 2016 میں اپنا انتخابی ساتھی منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی عوام نے 8 نومبر، 2016 کو صدر ٹرمپ اور نائب صدر پینس کو منتخب کیا۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر پینس نے 20 جنوری 2017 کو اپنے اپنے عہدے سنبھالے۔

نائب صدر پینس خدا کی مہربانی، اپنے خاندان کی محبت اور حمایت اور ہر امریکی کے پیدائشی حق یعنی آزادی کی نعمتوں کے لیے خدا کے شکر گذار ہیں۔ وہ امریکی عوام کے ساتھ  مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں اور وہ سب کے ساتھ مل کر امریکہ کو ایک بار پھر عظیم ملک بنانے کے آرزومند ہیں۔

سوانح کا ماخذ: whitehouse.gov