امریکہ کے صدر

President Donald J. Trumpصدر ٹرمپ امریکی کہانی کے حقیقی مجسم ہیں۔ جائیداد سے متعلق کاروبار، کھیلوں، اور تفریح میں اپنی خصوصی دلچسپیوں کی بدولت وہ اپنی پوری زندگی  میں تسلسل سے تجارت اور کاروباری نظامت کاری کی فضیلت کے معیارات قائم کرتے رہے۔ اسی طرح اِن کی سیاست اور عوامی خدمت کے میدان میں آمد کا نتیجہ معجزانہ طور پر صدر کے عہدے کے لیے اپنے پہلے ہی مقابلے میں صدارتی فتح کی صورت میں نکلا۔

وارٹن سکول آف فنانس سے گریجوایشن کرنے کے بعد، صدر ٹرمپ نے جائیداد کی خریدوفرخت کا کام شروع کر کے اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا اور نیو یارک کی جائیداد کی خریدوفرخت کی دنیا میں قدم رکھا۔ جلد ہی ٹرمپ کا نام، پہلے مین ہیٹن اور بعد میں دنیا بھر کے مشہورترین عمارتی پتوں کی علامت بن گیا۔ صدر ٹرمپ ایک کامیاب مصنف ہیں۔ وہ 14 سے زائد سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابیں تصنیف کر چکے ہیں۔ اُن کی پہلی کتاب    ‘ دی آرٹ آف دی ڈیل ‘ کو 1987ء کی پہلے نمبر کی کتاب ہونے کے علاوہ کاروباری موضوع پر ایک کلاسیکی   تصنیف تصور کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے 16 جون 2015  کو صدارتی امیدوار بننےکا اعلان کیا۔ جب ان کے مدمقابل ریپبلیکن پارٹی کے دوسرے 17 صدارتی امیدواروں نے اپنی انتخابی مہمیں ختم کردیں تو اس کے بعد انہوں نے جولائی 2016 میں ریپبلیکن پارٹی  کی جانب سے صدر کے عہدے کے لیے نامزدگی قبول کی۔ وہ 8 نومبر 2016 کو انتخاب میں کامیاب ہوئے۔ یہ گزشتہ 28 برسوں میں الیکٹورل کالج کے ووٹوں کے حوالے سے کسی بھی ریپبلیکن امیدوار کی سب بڑی اکثریت ہے۔ وہ ملک بھر میں 2,600 سے زائد کاؤنٹیوں میں جیتے۔ کاؤنٹیوں کی یہ تعداد 1984ء  میں صدر ریگن کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے لوگوں کے 6 کروڑ 20 لاکھ  سے زائد براہِ راست ڈالے جانے والے ووٹ حاصل کیے۔ یہ تعداد آج تک کسی بھی ریپبلیکن پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار  کے صدارتی انتخاب میں حاصل کیے جانے والے ووٹوں کی نسبت سب سے زیادہ ہے۔ انہیں الیکٹورل کالج کے 306 ووٹ ملے جو کہ 1988ء میں  صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کے بعد کسی بھی ریپلیکن صدارتی امیدوار کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ لاکھوں امریکیوں نے ملک کی تعمیر نو اور حالات کی موجودہ نہج کو ختم کرنے کے پیغام پر لبیک کہا ــــ یہ حقیقی معنوں میں ایک قومی فتح اور تاریخی تحریک تھی۔

چونکہ وہ اپنے اقتصادی بااختیاری کے پیغام کو تمام امریکیوں تک پہنچانا چاہتے تھے لہذا صدر ٹرمپ نے اُن علاقوں میں انتخابی مہم چلائی جن کے بارے مں وہ جانتے تھے کہ  وہاں ماضی میں ریپبلیکن پارٹی کے امیدواروں کو جیتنے میں مشکل کا سامنا رہا ہے۔  اِن میں فِلنٹ، مشی گن، کلیو لینڈ میں چارٹر سکولوں کا اندرون شہر کا علاقہ، اورفلوریڈا میں ہسپانوی گرجا گھروں کے علاقے شامل تھے۔ بہتر تجارتی سمجھوتوں کے ذریعے خوشحالی لانے پر ان کی بھرپور توجہ کی وجہ سے، ریپبلیکن پارٹی میں آنے والے لاکھوں نئے لوگوں نے اپنے ووٹ دے کر  ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس کے نتیجے میں انہیں پارٹی کے نئے علاقوں مں اچھی خاصی برتری کے ساتھ  فتح حاصل ہوئی۔ یہ بات واضح  ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک ایسی فتح حاصل کی ہے جس نے مختلف پس منظر رکھنے والے تمام امریکیوں کو اکٹھا کر دیا ہے اور صدر اپنی مدت کے روزِ اول سے اور آنے والے ہر دن میں قوم کے سامنے عملی نتائج لانے کے لیے تیار ہیں۔

صدر ٹرمپ نے 12 سال پہلے اپنی اہلیہ میلانیا سے شادی کی۔ اُن کا ایک بیٹا ہے جس کا نام بیرن ہے۔ اس کے علاوہ،  صدر کے چار بڑے بچے ہیں جن کے نام ڈان جونیئر، ایوانکا، ایرک اور ٹِفنی ہیں۔ اُن کے  آٹھ  پوتے پوتیاں/نواسے نواسیاں ہیں۔

سوانح حیات کا:whitehouse.gov