ایران سے متعلق سوالات

16 جنوری، 2016 کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے تصدیق کی کہ ایران نے ’ایران معاہدے‘ کے تحت ضروری اقدامات مکمل کر لئے ہیں جو اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ایران کا جوہری پروگرام خصوصی طور سے پُرامن ہے اور رہے گا۔ اس معاہدے سے پہلے، ایران کا زمانہ گریز ۔۔ یا ایران کو ہتھیار بنانے کیلئے ایٹمی مواد کی خاطرخواہ مقدار جمع کرنے میں لگنے والا وقت ۔۔ صرف دو سے تین ماہ کا تھا۔ آج، ایران معاہدے کی وجہ سے، ایران کو ایسا کرنے میں 12 ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ لگے گا۔ اور اس معاہدے سے حاصل ہوئی بے مثال نگرانی اور رسائی کی سہولت کی وجہ سے اگر ایران ایسی کوشش کرتا ہے تو ہمیں اسکی جانکاری ہوجائیگی اور پابندیاں دوبارہ عائد کردی جائیں گی۔

اکتوبر سے، ایران نے:

  •  25,000 پونڈ افزودہ یورینیم ملک سے باہر بھیجا
  •  اپنے سنٹری فیوجز کے دو تہائی حصوں کو ہٹایا اور انہیں منہدم کردیا
  •  اپنے ہیوی واٹر ری ایکٹر سے calandria خالی کرکے اسمیں کنکریٹ بھرا
  •  اپنے جوہری اڈوں اور سپلائی چین تک عدیم المثال رسائی فراہم کی

ایران پابندیوں یا امریکی نقطہ نظر سے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کے بارے میں مخصوص سوالات کیلئے، براہ مہربانی درج ذیل وسائل ملاحظہ کریں:

ایران پابندیوں پر وھائٹ ہائوس کی گائیڈنس

ایران پابندیوں پر محکمہ خارجہ کی گائیڈنس

ایران پابندیوں پر محکمہ خزانہ کی گائیڈنس

ایران پابندیوں پر محکمہ کامرس کی گائیڈنس