پہلے امریکہ: خارجہ پالیسی

ٹرمپ انتظامیہ نے اس امر کا عزم کیا ہے کہ ایک ایسی خارجہ پالیسی مرتب کی جائے گی جوامریکی مفادات اور امریکہ کی قومی سلامتی کی ضامن ہو۔

اس پالیسی کا بنیادی تقاضا ’’امن برائے طاقت‘‘ ہو گا۔ یہ اصول ایک مستحکم، اور پُر امن دنیا کی بنیاد بنے گا، ایک ایسی دنیا، جس میں باہمی تعاون کا اجرا کیا جائے اور باہمی اختلافات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

داعش اور دیگر اسلامی انتہا پسند جماعتوں کو شکست دینا [اس پالیسی کی] اولین ترجیح ہو گی۔ ان جماعتوں کو شکست اور تباہی سے دوچار کرنے کے لئے ہم ضرورت پڑنے پر بھرپور باہمی تعاون سے جارح اتحادی فوجی کارروائیاں مرتب کریں گے۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ انتظامیہ اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان انتہا پسند جماعتوں کی مالی امداد کو روکنےاور ایک دوسرے کے ساتھ حساس نوعیت کی اطلاعات کے تبادلے کے لئے کام کرے گی اور ایسی سائبر جنگی حکمت عملی کا آغاز کرے گی جس کی وجہ سے ان جماعتوں کے فروغ اور ان میں شرکت کے عمل کو روکا جا سکے۔

دیریں اثنا، ہم امریکی افواج کی تشکیلˏنو کریں گے۔ ہماری بحری فوج، جو کہ سن 1991 میں پانچ سو بحری جہازوں پر مشتمل تھی، سمٹ کر، سن 2016 میں دو سو پجھتر بحری جہازوں پر مشتمل رہ گئی ہے۔ ہماری فضائی فوج 1991 کے مقابلے میں تقریبا″ ایک تہائی کم ہو گئی ہے۔ صدر ٹرمپ اس سلسلے کو پلٹنے کا عزم رکھتے ہیں کیوںکہ وہ اس امر کے قائل ہیں کہ ہماری [امریکی] فوج کی عالمی اجارہ داری میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ہونی چاہئیے۔

مزید برآں، امریکی مفادات پر مبنی ایک ایسی خارجہ پالیسی کو یقینی بنانا جس میں مصلحت اندیشی کو شعار بنایا جائے۔ ہم دنیا کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم عالمی سطح پر مزید حریف بنانے کے خواہشمند نہیں ہیں، ہمیں اس بات سے خوشی ہوتی ہے جب پرانے حریف، دوستوں میں بدل جاتے ہیں اور جب پرانی رفاقت، شراکت داری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

یہ دنیا، ایک مضبوط اور قابلˏ تعظیم امریکہ کے باعث، ایک مزید پُرامن اور خوشحال دنیا بن جائے گی۔

تمام امریکیوں کے مفاد پر مبنی تجارتی معاہدات

ایک طویل عرصے سے، امریکی عوام ان تجارتی منصوبوں کو تسلیم کرنے پر مجبور رہی ہے جو اس ملک کے محنتی مردوں اور عورتوں کی بہبود کو پس پشت ڈال کر واشنگٹن کے اندرونˏخانہ، امیر طبقے کے مفاد کے لئے مرتب کئے گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں، اس ملک کے مزدور طبقے نے اپنے شہروں اور قصبوں کے کارخانوں کو بند ہوتے اور اپنی نوکریوں کو بیرون ملک منتقل ہوتے دیکھا ہے اور امریکہ کو بڑھتے ہوئے تجارتی بحران اور کمزور صنعتی مراکز [جیسے مسائل] کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اپنی پوری زندگی پر مبنی کاروباری گفت و شنید کے تجربات کی بنا پر صدر ٹرمپ اس معاملے کی نزاکت سے پوری طرح واقف ہیں کہ جب کبھی امریکی تجارتی معاہدات کی بات ہوتی ہے تو امریکی مزدور طبقے اور مقامی کاروباری افراد کے مفاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہئیے۔ مربوط اور منصفانہ تجارتی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تجارت، ہماری معیشت کے بڑھاؤ کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے اور لاکھوں امریکی نوکریوں کو امریکی عوام تک واپس لا کر ہماری قوم کے متاثرہ طبقات کو نئی زندگی فراہم کی جا سکتی ہے۔

اس حکمت عملی کے آغاز کا پہلا مرحلہ، ٹرانس- پسیفیک پارٹنرشپ سے خارج ہونا ہو گا اور اس امر کو یقینی بنانا ہو گا کہ کوئی بھی نئی تجارتی منصوبہ بندی امریکی کارکن طبقے کے مفاد کی بنیاد پر کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کا عزم ہے کہ نافٹا (نارتھ امیریکن فری ٹریڈ ایگریمنٹ) سے ازسر نو معاہدہ بندی کی جائے۔ اگر ہمارے شراکت کاروں نے ہم سے تبادلۂ خیال کرنے کے بعد امریکیوں سے منصفانہ معاہدہ کرنے سے انکار کیا تو صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کو آگاہ کر دیں گے کہ امریکہ نافٹا سے خارج ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔

تجارتی منصوبوں کو مسترد کرنے اور تجارتی معاہدوں کی ناکام گفت و شنید کے ساتھ ساتھ، امریکہ ان اقوام کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کرے گا جنہوں نے امریکہ کے ساتھ کئے گئے تجارتی معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اس عمل کے دوروان امریکی کارکنان کے مفاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ صدر ٹرمپ وفاقی وزیر برائے تجارتی امور کو ہدایت دیں گے کہ تمام تجارتی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کریں اور وفاقی حکومت کے ہر ممکنہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ان بدعنوانیوں کا خاتمہ یقینی بنائیں۔

اپنی اس حکمت عملی کو ممکن بنانے کے لئے، صدر ٹرمپ، اپنے تجارتی عملے کے سب سے زیادہ ذہین اور مضبوط افراد کو، اس بنیاد پر مامور کر رہے ہیں کہ امریکی حکومت کو [تجارتی معاہدات] سے متعلق گفت و شنید کے لئے بہترین افراد میسر ہوں۔ ایک طویل عرصے سے ان تجارتی معاہدات کے بارے میں واشنگٹن کی انتظامیہ کے ممبران ہی تبادلۂ خیال کرتے رہے ہیں۔

صدرٹرمپ اس امر کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کی زیر نگرانی حکومت، ایسی تجارتی حکمت عملی اختیار کرے جو عوامی تعاون اور عوامی بہبود کی حامل ہو اور جس کی اولین ترجیح ’’امریکہ‘‘ ہو۔

باہمی مفاد پر مبنی تجارتی شراکت کاری کے منصوبوں کی کاوش سے امریکی عوام تک روزگار کی فراہمی، تنخواہوں میں اضافے اور امریکہ میں بنائی گئی مصنوعات کا دور، دوبارہ واپس آ سکتا ہے۔