’’ قوم کو غیرملکی دہشت گردوں کے امریکہ میں داخلے سے تحفظ‘‘

3 فروری 2017 کو محکمے نے ریاست واشنگٹن میں وفاقی عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکم کی تعمیل میں انتظامی حکم 13769 کے تحت ویزوں کی عبوری تنسیخ کا فیصلہ واپس لے لیا۔ لہٰذا جن افراد کے ویزے عملی طور پر منسوخ نہیں ہوئے وہ قانونی طور پر مکمل سفری دستاویزات کی موجودگی میں اب سفر کے اہل ہیں۔

امریکی سفارت خانوں اور کونسل خانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قبل ازیں انتظامی حکم 13769 کی زد میں آنے والے سات ملکوں کے شہریوں کو ویزوں کے باقاعدہ اجرا کا عمل جاری رکھیں۔ درخواست گزار انٹرویو کے اوقات کی معلومات کے لیے اپنے قریبی امریکی سفارت خانے یا قونصلیٹ سے رجوع کریں۔

ریاست واشنگٹن فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے 3 جنوری کو ایک حکم کے ذریعے امریکی حکومت کو انتظامی حکم 13769 کے مخصوص اقدامات بشمول ویزوں اور سفر سے متعلق پابندیوں کے نفاذ سے روک دیا ہے۔ امریکی حکومت نے ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناعی لینے کے لیے 9ویں سرکٹ کورٹ آف اپیل سے رجوع کیا تاکہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے حتمی فیصلے تک انتظامی حکم کے نفاذ کا عمل جاری رکھا جا سکے۔

9 فروری 2017 کو 9ویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں تین ججوں پر مشتمل پینل نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ اس حوالے سے تفصیلات دستیاب ہوتے ہی ہم آپ کومزید پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

سوال: جن لوگوں کے ویزے عملی طور پر منسوخ ہوئے ہیں کیا انہیں دوبارہ درخواست دینا ہو گی؟

جواب: بعض افراد کے ویزے مہر لگا کر یا دوسرے طریقوں سے منسوخ ہوئے۔عمومی طور پر دیکھا جائے تو مخصوص حالات کے علاوہ ایسے لوگوں کو امریکی سفارت خانے یا قونصلیٹ میں نئے ویزے کے لیے درخواست دینا ہو گی۔ اس حوالے سے ہم آپ کو "سی بی پی”سے رجوع کرنے کو کہیں گے۔

سوال: آیا دوبارہ ویزے کی درخواست دینے والوں کو اس کی فیس بھی دوبارہ ادا کرنا ہو گی؟

جواب: اگر نئی ویزا درخواست کی ضرورت ہو تو درخواست گزار کو بہرصورت اس کے ساتھ ویزا فیس بھی ادا کرنا ہو گی۔ اس حوالے سے تازہ ترین معلومات کے لیے درخواست گزار اپنے قریب امریکی سفارت خانے یا قونصلیٹ سے رجوع کریں۔

سوال: کیا اس عدالتی حکم کے ذریعے ویزا انٹرویو سے چھوٹ کا عمل بھی بحال ہو جائے گا؟ کیا درخواست گزار اب ایک مرتبہ پھر انٹرویو کے بغیر ہی ویزوں کی تجدید کرا سکیں گے؟

جواب: 3 فروری کے عدالتی حکم سے انتظامی حکم 13769 میں انٹرویو کی چھوٹ کے پروگرام سے متعلق حصے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ محکمہ خارجہ کو ویزے کے تمام درخواست گزاروں کے انٹرویو درکار ہیں سوائے:

سرکاری مقاصد کے لیے امریکا آنے والے غیرملکی حکومتوں کے ملازمین، حکام یا نمائندے، نیٹو سے متعلقہ مقاصد کے لیے امریکا کا سفر کرنے والے افراد (درجہ بندی: اے۔1، اے۔2، جی۔1، جی۔2، جی۔3، جی۔4، نیٹو۔1 سے 6، سی۔2 اور سی۔3) کسی بھی درجہ بندی کے سفارتی یا سرکاری ویزے، 14 سال سے کم عمر یا 79 سال سے زیادہ عمر کے درخواست گزار، اور ایسے درخواست گزار جن کے ایک ہی قسم کے ویزے کو نئی درخواست سے قبل منسوخ ہوئے 12 ماہ سے کم وقت گزرا ہو۔

حسب سابق قونصلر آفیسر کو درخواست میں دی گئی کسی بھی قسم کی معلومات کے حوالے سے مزید سوال و جواب کی ضرورت ہوئی تو درخواست گزار کو بذات خود اس کے سامنے پیش ہونا ہو گا۔ تمام ویزا درخواستوں کو سلامتی کے حوالے سے کڑی چھان بین کے عمل سے گزرنا ہو گا۔ ان میں وہ درخواستیں بھی شامل ہیں جن پر انٹرویو کی چھوٹ دی گئی ہے۔

محکمہ خارجہ امریکی سرحدوں اور امریکی عوام کی سلامتی یقینی بناتے ہوئے قانونی طریقے سے سفر میں سہولت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ ویزے کے عمل بارے مزید معلومات travel.state.gov سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

]یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔[